اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

علاقائی امن کا مستقبل؟

ایران اور امریکہ کے مابین نئی عسکری جھڑپوں نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ سمیت عالمی امن کو تشویشناک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب بھی خطے میں امن کے چراغ روشن ہونے لگتے ہیں‘ امن مخالف اور عدم استحکام سے مفاد کشید کرنے والے عناصر متحرک ہو جاتے ہیں۔ حالیہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے مابین ورکنگ گروپ مذاکرات جاری ہیں اور دونوں ممالک دو ماہ کی قلیل مدت میں مسئلے کا پائیدار اور دو طرفہ قابلِ قبول حل نکالنے کیلئے کوشاں ہیں۔ تاہم اس بیچ ان نئی جھڑپوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین دہائیوں پہ محیط سرد مہری اور عدم اعتماد کی فضا ہنوز موجود ہے اور یہ چند ملاقاتوں اور مذاکراتی بیٹھکوں سے پُرجوش تعلقات میں نہیں بدل سکتی۔ طویل عرصے کی تلخیوں کو دور کرنے اور اعتماد سازی کی بحالی کیلئے مسلسل‘ صبر آزما اور مربوط سفارتی عمل کی ضرورت ہوتی ہے‘ جس میں خلوصِ نیت کے ساتھ وقت بھی درکار ہوتا ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں سوئٹزر لینڈ میں ہونے والے لیک لوسرن مذاکرات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے مابین براہِ راست تصادم کو روکنے کیلئے ایک مضبوط اور پائیدار فریم ورک تیار کرنا تھا۔

اس امن عمل کے تحت یہ طے پایا تھا کہ دونوں طاقتیں اپنے باہمی تنازعات اور کسی بھی قسم کی غلط فہمی کو دور کرنے کیلئے ’ہاٹ لائن‘ اور ’ڈی کنفلکشن سیل‘ کو بروئے کار لائیں گی‘ لہٰذا ان روابط کو فعال و مضبوط کیا جانا چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ سرد جنگ کے دور میں امریکہ اور سوویت یونین کے مابین قائم ہاٹ لائن نے کم از کم پانچ ایسے مواقع پر دنیا کو ایٹمی جنگ سے محفوظ رکھا جہاں محض تکنیکی خرابی یا غلط فہمی کی وجہ سے دوطرفہ حملے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ دنیا میں ایسے بہت سے امن مخالف عناصر اور گروہ سرگرم ہیں جو ایران اور امریکہ کے مابین کسی بھی قسم کے مذاکراتی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ عناصر خطے میں مستقل عدم استحکام کے خواہاں ہیں کیونکہ ان کے تزویراتی اور اقتصادی مفادات جنگی ماحول سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب بھی تہران اور واشنگٹن کے مابین برف پگھلنے لگتی ہے‘ عسکری جارحیت‘ سائبر اور پراکسی حملوں میں اچانک تیزی آ جاتی ہے۔ خلیج عمان اور آبنائے ہرمز جیسی حساس تجارتی گزرگاہوں‘ جہاں سے دنیا کی کُل ضرورت کا تقریباً 20 فیصد خام تیل گزرتا ہے‘ میں معمولی سی اشتعال انگیزی بھی عالمی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتی ہے۔ امن کے دشمنوں کی سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے انہیں ناکام بنانے کیلئے دونوں ممالک کی قیادت کو گہری بصیرت اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ موجودہ نازک صورتحال میں امن کوششوں کو رائیگاں کرنے اور کشیدگی بڑھانے کیلئے فالس فلیگ کارروائی کا امکان بھی خارج از امکان نہیں ہے۔

تاریخ میں کئی جنگیں ایسے مبہم واقعات کے بعد شروع ہوئیں جن کی حقیقت بعد میں کچھ اور نکلی۔ لہٰذا جب تک ورکنگ گروپس کے مذاکرات کسی حتمی حل تک نہیں پہنچ جاتے‘ فریقین کو ازحد احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا ہو گا۔ دنیا ابھی تک تیل بحران کے اثرات سے نہیں نکلی اور سپلائی لائن پوری طرح بحال نہیں ہوئی‘ ایسے میں کسی بھی نئی کشیدگی سے عالمی سطح پر افراطِ زر میں تین سے پانچ فیصد تک فوری اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگرچہ دہائیوں پرانی مخاصمت کو راتوں رات دوستی میں بدلنا ممکن نہیں لہٰذا گزشتہ ساڑھے چار دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری سفارتی اور معاشی تناؤ کے بعد باہمی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے بتدریج ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔ تہران اور واشنگٹن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ بذاتِ خود ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور خطے سمیت پوری دنیا کی بقا صرف مذاکرات‘ سفارتی پختگی اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے ہی میں پنہاں ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں