اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ناقص منصوبہ بندی کا بوجھ

آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حالیہ رپورٹ میں دیامر بھاشا ڈیم‘ داسو اور نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹس سے متعلق جو حقائق سامنے آئے ہیں‘ وہ قومی منصوبہ بندی کے پورے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ تینوں آبی منصوبوں میں ناقص منصوبہ بندی‘ مسلسل تاخیر‘ لاگت میں غیر معمولی اضافے اور انتظامی کمزوریوں کے باعث قومی خزانے پر تقریباً 39 کھرب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے‘جبکہ مالی سال 2024-25ء کے دوران یہ منصوبے 358 ارب روپے سے زائد کے براہِ راست مالی نقصانات اور غیر منظور شدہ اخراجات کا سبب بنے۔ داسو ڈیم‘ جس کے پہلے مرحلے کی ابتدائی لاگت 486 ارب روپے تھی‘ اب یہ بڑھ کر 1737 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے یعنی لاگت میں 257 فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔

دیامر بھاشا ڈیم اور نیلم جہلم منصوبہ بھی اسی قسم کے مسائل کا شکار ہیں۔ ابتدائی تخمینوں میں غیر حقیقی اندازے‘ زمین کے حصول میں تاخیر‘ بار بار ڈیزائن میں تبدیلیاں‘ کمزور نگرانی‘ قواعد کی خلاف ورزیاں‘ سست فیصلہ سازی اور متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کا فقدان وہ بنیادی عوامل ہیں جنہوں نے اہم قومی منصوبوں کو لاگت اور مدت‘ دونوں اعتبار سے بحران کا شکار کر دیا۔ یہ رپورٹ اربابِ اختیار کے لیے چشم کشا ہونی چاہیے‘ نہ صرف اس کی روشنی میں ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے بلکہ منصوبہ بندی کے نظام میں اصلاحات بھی ناگزیر ہو چکی ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں