اشیائے ضروریہ کی مہنگائی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آنے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ عوام کو ریلیف ملے گا۔ اگرچہ اس تناظر میں حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کی گئی لیکن اسکے اثرات روزمرہ استعمال کی اشیا پر منتقل نہیں ہوئے۔ وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق دو جولائی کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ مہنگائی کی شرح 13.52 فیصد ریکارڈ ہوئی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق سالانہ بنیادوں پر سب سے زیادہ مہنگی ہونیوالی اشیا میں ٹماٹر سرفہرست ہے جس کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 240 فیصد اضافہ ہوا جبکہ پیاز‘ آلو‘ انڈے‘ آٹا‘ دودھ‘ دہی‘ چاول اور مختلف اقسام کی دالوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یہ تمام وہ بنیادی اشیائے خورونوش ہیں جن کے بغیر ایک عام گھرانے کا گزارا ممکن نہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ یقینی بنائے۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ سب سے اہم مسئلہ عوام کی قوتِ خرید ہے۔ اس کیلئے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا‘ مزدوروں‘ کم آمدنی والے ملازمین اور نجی شعبے کے کارکنوں کی اجرتوں میں مناسب اضافہ ناگزیر ہے۔ مہنگائی میں کمی کے حکومتی دعوے تبھی سچ ثابت ہوں گے جب ہر گھر کے باورچی خانے میں ریلیف محسوس ہو گا۔