طالبان، دہشت گردی اور پاکستان کا حقِ دفاع
امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف دفاع کے حق میں پاکستان کے اقدامات کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک بیان کے مطابق پاکستان کے عوام نے دہشت گردی سے بہت نقصان اٹھایا ہے اور واشنگٹن دہشت گرد حملوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے دفاعی اقدامات کی تائید کرتا ہے۔ افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے خطرات ملک میں امن وامان کا سب سے بڑا خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔ افغانستان پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے حوالے سے کوئی نیا خطرہ نہیں۔ ماضی میں اشرف غنی اور حامد کرزئی کے ادوار میں بھی کابل کی جانب سے ایسے اقدامات کیے گئے جن سے پاکستان کی سلامتی کیلئے براہ راست خطرات نے جنم لیا یا ان میں اضافہ ہوا۔ اس سلسلے میں بھارتی قونصل خانوں کی پاکستان کی سرحد کے قریب واقع افغان شہروں میں مشکوک مصروفیات تشویش کا سبب رہی ہیں۔مگر پاکستان میں یہ امید تھی کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد صورتحال میں مثبت تبدیلی آئے گی؛ چنانچہ اگست2021 ء میں جب طالبان کابل پر قابض ہوئے تو پاکستان پُر امید تھا کہ افغانستان استحکام اور پڑوسی ممالک کیساتھ بہتر تعلقات قائم کرے گا۔ لیکن یہ امیدیں جلد ہی دم توڑنے لگیں۔

مایوسی کی پہلی وجہ افغانستان کی جیلوں سے ان دہشت گرد عناصر کی رہائی تھی جنہیں سابق افغان حکومتوں یا غیر ملکی افواج نے حراست میں لے کر جیلوں میں ڈالا تھا۔ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی اعانت کا یہ پہلا ثبوت کابل پر ان کے کنٹرول کیساتھ ہی سامنے آ گیا۔ ایسے مزید شواہد سامنے آنے میں بھی زیادہ وقت نہیں لگا۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے سدباب کی تجاویز اور مطالبات کے باوجود افغان طالبان ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ پاکستان کی جانب سے اکابر علما کے وفود طالبان کو قائل کرنے کیلئے کابل کے دورے پر گئے مگر طالبان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے واقعات معمول بن گئے۔ افغانستان میں طالبان کی واپسی نے قبائلی پٹی کے علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے اقدامات کو بھی بے اثر کر دیا۔ پاکستان کی جانب سے کارروائیوں سے بھاگ کر جو عناصر افغانستان میں جا چھپے تھے انہیں وہاں سرکاری حمایت اور پشت پناہی حاصل ہوئی تو وہ پاکستا ن میں زیادہ کھل کر حملے کرنے کے قابل ہو گئے۔ خیبر پختونخوا‘ خاص طور پر اس کے جنوبی اضلاع جو وزیرستان کے علاقوں سے متصل ہیں اس دوران دہشت گردی کے مسلسل حملوں کی زد پر ہیں۔
ان واقعات میں افغانستان کی اعانت کے کئی شواہد موجود ہیں۔ کئی بار دہشت گردی میں ملوث عناصر گرفتار ہوئے یا مارے گئے اور ان کی شناخت افغانستان کے شہری کے طور پر ہوئی‘ علاوہ ازیں دہشت گردی کے اکثر واقعات میں استعمال ہونے والا اسلحہ افغانستان سے لایا گیا تھا۔ ان میں سے بہت سے واقعات میں وہ ہتھیار اور آلات کے استعمال ہونے کی تصدیق ہوئی جو غیر ملکی افواج یا سابق افغان سکیورٹی فورسز کے استعمال میں تھے تاہم اگست 2021ء میں جو غدر مچا اس کے بعد یہ اسلحہ بھی دہشت گردوں کی پہنچ میں آ گیا۔ پاکستان کی سلامتی کیلئے ان بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی جانب سے سفارتی اقدامات سے آغاز کیا گیا مگر افسوسناک طور پر اس کا تسلی بخش نتیجہ برآمد نہیں ہوا اور شکایات کا ازالہ اور معقول طرزِ عمل اختیار کرنے کے بجائے طالبان کی سرحدی فورسز کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال فائرنگ اور بدامنی پیدا کرنے کے بعد پاکستان کو اپنے دفاع میں مناسب اور ضروری اقدامات کا جواز حاصل ہوا‘ جس کی توثیق اقوام متحدہ کے چارٹر کا آرٹیکل 51 بھی کرتا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے بیان میں پاکستان کے اسی حق کی تائید کی گئی ہے۔