اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

المناک بس حادثہ

گزشتہ روز کوئٹہ سے پشاور جانے والی بس بلوچستان کے علاقہ دانہ سر کی ایک گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق اور آٹھ زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق یہ حادثہ بریک فیل ہونے کے باعث پیش آیا۔ بلوچستان‘ شمالی علاقہ جات‘ آزاد کشمیر اور مغربی سرحدی علاقوں کے دشوار گزار راستوں پر روزانہ لاکھوں افراد سفر کرتے ہیں۔ ان سنگلاخ راستوں پر گاڑی چلانا انتہائی ذمہ داری‘ مہارت اور غیرمعمولی احتیاط کا متقاضی ہے مگر افسوس کہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسی غفلتیں سرزد ہوتی رہتی ہیں جو آئے روز قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتی ہیں۔ طویل اور دشوار گزار سفری راستوں پر گاڑی کا مکمل طور پر فٹ ہونا اور اس کا وقفے وقفے سے فنی معائنہ کرانا ناگزیر ہے تاکہ مسلسل سفر کے دوران پیدا ہونے والی تکنیکی خرابیوں کو بروقت دور کرکے کسی ممکنہ سانحے سے بچا جا سکے۔

ایک ذمہ دار اور تجربہ کار ڈرائیور ان تقاضوں کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھتا ہے لیکن ناتجربہ کار یا لاپروا ڈرائیور نہ صرف اپنی بلکہ مسافروں کی جانوں کو بھی شدید خطرے سے دوچار کر دیتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دشوار گزار اور طویل روٹس پر چلنے والی ہر گاڑی کو روانگی سے قبل مکمل تکنیکی جانچ کے عمل سے گزارا جائے جبکہ دورانِ سفر بھی بریکوں‘ ٹائروں اور دیگر اہم پرزہ جات کا معائنہ یقینی بنایا جائے۔ اسی طرح وہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور گاڑیوں کے مالکان بھی قانون کی گرفت سے محفوظ نہیں رہنے چاہئیں جو فنی معیار پر پوری نہ اترنے والی گاڑیاں سڑکوں پر اتارتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں