اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ورکرز کا تحفظ اور شفافیت ناگزیر

دسمبر 2024ء میں ستھرا پنجاب منصوبہ اس عزم کے ساتھ شروع کیا گیا تھا کہ صوبے کے ہر شہر‘ قصبے اور گاؤں میں صفائی کا جدید اور مؤثر نظام قائم کیا جائے۔عوام کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے کی یہ کوشش بلاشبہ حکومت کی ایک اہم اقدام ہے مگر اس منصوبے پر کام کرنے والی بعض ٹھیکیدار کمپنیوں کی مبینہ بدعنوانیوں اور ورکرز کے استحصال کی شکایات کا معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف اضلاع سے یہ شکایات مسلسل سامنے آ رہی ہیں کہ متعدد ورکرز کو نہ تو بروقت تنخواہیں مل رہی ہیں اور نہ ہی مکمل ادائیگی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب اینٹی کرپشن کی تحقیقات میں بعض ٹھیکیدار کمپنیوں کے خلاف جعلی ملازمین‘ فرضی ویسٹ سائٹس‘ کنٹینرز اور دیگر ریکارڈ کے ذریعے سرکاری فنڈز میں مبینہ خوردبرد جیسے سنگین الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ کرپٹ عناصر نہ صرف قومی خزانے کو نقصان پہنچا رہے بلکہ ایک اہم عوامی منصوبے کی ساکھ کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔ نہ صرف ورکرز کی بروقت اور مکمل تنخواہ کی ادائیگی‘ قانونی حقوق کا تحفظ اور باوقار روزگار ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے بلکہ تمام متعلقہ کمپنیوں کا جامع آڈٹ‘ ڈیجیٹل ریکارڈ کی آزادانہ جانچ‘ تنخواہوں کی شفاف ادائیگی کا مؤثر نظام اور بدعنوان عناصر کیخلاف بلاامتیاز کارروائی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں