اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مقامی حکومتیں، مسائل کے حل کی بنیاد

وفاقی وزیر صحت کا یہ کہنا بجا ہے کہ وفاقی دارالحکومت اور صوبوں میں شعبۂ صحت کے بیشتر بنیادی مسائل صرف ایک مضبوط مقامی حکومت کا نظام ہی مؤثر انداز میں حل کر سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ صاف پانی‘ صفائی‘ تعلیم‘ ماحولیاتی تحفظ اور دیگر روزمرہ عوامی خدمات بھی اسی وقت بہتر انداز میں انجام دی جا سکتی ہیں جب اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنا کر شہری سہولتوں اور ترقی کے نظام کو مستحکم کیا ہے‘ مگرپاکستان میں مقامی حکومتوں کو ہمیشہ سیاسی مصلحتوں کا شکار بنایا گیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اور آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں آخری مقامی حکومتیں فروری 2021ء میں تحلیل ہوئی تھیں مگر تقریباً ساڑھے پانچ برس گزرنے کے باوجود وہاں نئے بلدیاتی انتخابات نہیں ہو سکے۔ نتیجتاً مقامی نوعیت کے بے شمار مسائل براہِ راست بیورو کریسی کے سپرد ہیں‘ جو نہ صرف پہلے ہی بے پناہ انتظامی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے بلکہ مقامی ضروریات سے اتنی واقف بھی نہیں ہوتی جتنے منتخب نمائندے ہوتے ہیں۔ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی‘ بے ہنگم شہری پھیلاؤ اور بنیادی سہولتوں پر بڑھتا ہوا دباؤ اس امر کا متقاضی ہے کہ مقامی حکومتوں کے نظام کو مزید مؤخر کرنے کے بجائے اسے مضبوط‘ بااختیار اور مالی طور پر خودمختار بنایا جائے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں