خلیج فارس میں ابھرتی نئی کشیدگی
ایران اور امریکہ کے مابین دوبارہ بڑھتی کشیدگی نے ایک بار پھر خطے سمیت پوری دنیا کو شدید تشویش اور عدم استحکام کی دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ نئے امریکی حملوں اور ایران کی جانب سے اردن‘ بحرین اور کویت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کے عمل نے نہ صرف علاقائی امن کو داؤ پر لگا دیا ہے بلکہ عالمی معاشی استحکام کیلئے بھی خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ یہ نئی جھڑپیں ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب ایران میں سابق رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری تھیں۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں سرد جنگ‘ پابندیاں اور پراکسی جنگیں نمایاں رہی ہیں۔ تاہم گزشتہ ماہ اسلام آباد ایم او یو اور بعد ازاں لیک لوسرن مذاکرات میں دونوں ممالک میں پائیدار امن معاہدے کیلئے ساٹھ روزہ فریم ورک پر اتفاق ہوا تھا اور طے پایا تھا کہ کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے کیلئے ہاٹ لائن اور ڈی کانفلکشن سیل کا قیام عمل میں لایا جائے گا تاکہ مسائل کو فوری مؤثر انداز میں حل کیا جاسکے اور مذاکراتی عمل ہموار انداز میں آگے بڑھ سکے۔

دونوں ممالک کے نمائندوں میں تکنیکی مذاکرات کیلئے اگلے چند دنوں میں اسلام آباد میں نشست کی امید بھی کی جا رہی تھی تاہم کشیدگی کا دوبارہ ابھرنا اس بات کا اظہار ہے کہ شاید دونوں ملکوں میں موجود مخصوص طبقات دیرپا امن کی راہ میں حائل اور کشیدگی کو فروغ دینے کی پالیسی کے قائل ہیں۔ پاکستان‘ چین اور قطر سمیت متعدد ملکوں نے دونوں ممالک سے کشیدگی ختم کرنے اور معاہدے کے تحت مذاکرات کی طرف لوٹنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جب بھی خلیج فارس اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کا براہِ راست اثر توانائی کی قیمتوں پر پڑتا ہے کیونکہ یہ خطہ نہ صرف تیل و گیس کی پیداوار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے بلکہ عالمی توانائی ترسیل کا بڑا حصہ یہیں سے گزرتا ہے۔ دنیا اس وقت پہلے ہی متعدد معاشی چیلنجوں‘ مہنگائی اور سپلائی چین میں تعطل کے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ ایسے میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستوں‘ جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور کھربوں ڈالر کا عالمی تجارتی سامان گزرتا ہے‘ میں جاری تصادم پوری دنیا کے لیے ایک ڈرائونے خواب کی مانند ہے۔ خطے میں مسلسل تنائو اور مستقل کشیدگی انسانی معاشروں کی نفسیات پر ایک بوجھ ثابت ہو رہی اور معیشت اور ترقی کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ پائیدار اور مستقل امن کا واحد راستہ یہی ہے کہ باہمی معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
مسائل کو پائیدار حل کی طرف لانے کے بجائے طاقت کا جارحانہ استعمال نہ صرف سفارتی کوششوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے بلکہ انتہا پسند عناصر کو سر اٹھانے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ دنیا کب تک کشیدگی اور عارضی امن وقفوں کے بیچ جھولتی رہے گی؟ امریکہ اور ایران‘ دونوں کو سمجھنا ہوگا کہ معاہدوں پر عملدرآمد کوئی کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی اور عالمی ذمہ داری کا ثبوت ہے۔ جب تک بین الاقوامی معاہدوں کو تقدس فراہم نہیں کیا جائے گا تب تک امن قائم کرنے کی ہر کوشش رائیگاں جائے گی۔ تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ جنگیں کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتیں بلکہ وہ نئے اور کہیں زیادہ پیچیدہ مسائل کو جنم دیتی ہیں۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگ سے معاصر جنگوں تک‘ ہر جگہ طاقت کے استعمال‘ بے گناہ جانوں کے ضیاع اور کھربوں ڈالر کے زیاں کے بعد بالآخر مذاکرات کی میز پر ہی بیٹھنا پڑا۔ ایران اور امریکہ کے معاملے میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ مذاکرات اور امن معاہدے کے علاوہ کوئی بھی دوسرا حل پائیدار اور پُرامن ثابت نہیں ہو سکتا۔ طاقت اور بارود کی زبان سے شاید کوئی عارضی برتری مل جائے مگر دِلوں میں نفرت اور انتقام کی آگ اس سے مزید بھڑکے گی۔ مل بیٹھ کر بات چیت کرنا‘ ایک دوسرے کے تحفظات کو سننا اور لچک کا مظاہرہ کرنا ہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو تباہی سے بچا سکتا اور دنیا میں استحکام یقینی بنا سکتا ہے۔