وبائی امراض اور حفاظتی اقدامات
ہر سال مون سون میں سیلابی صورتحال کیساتھ ایک اور خطرہ بھی دستک دیتا ہے مگر انتظامیہ کو اسکی شدت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہسپتالوں کے وارڈ مریضوں سے بھرنے لگتے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق 26جولائی کو لاہور کے صرف پانچ سرکاری ہسپتالوں میں بارشی پانی سے پیدا ہونیوالے جلدی امراض اور گیسٹرو کے سات سو سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی‘ جہاں بارشی پانی جمع ہے‘ کم و بیش ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے۔ مون سون کے موسم میں گیسٹرو‘ ہیضہ اور جلدی امراض کے پھیلنے کی بنیادی وجوہات جگہ جگہ کھڑا بارشی پانی ‘ آلودہ پانی کا پینے کے پانی میں شامل ہونا اور آلودہ خوراک ہے۔ کھڑا پانی مچھروں اور دیگر بیماری پھیلانے والے حشرات کی افزائش گاہ بن جاتا ہے۔

نتیجتاً ہسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ بڑھتا ہے اور صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ حکومت موسمی وباؤں کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی منصوبہ بندی کو اپنی پالیسی کا مستقل حصہ بنائے۔ رہائشی علاقوں سے بارشی پانی کی فوری نکاسی‘ واٹر سپلائی لائنوں کی نگرانی‘ صاف پانی کی فراہمی اورجراثیم کش سپرے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہری بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور پینے کیلئے ابلا ہوا یا فلٹر شدہ پانی استعمال کریں۔ اس موسم میں معمولی سی احتیاط بھی بڑے نقصان سے بچا سکتی ہے۔