سیلاب کے خدشات اور پیشگی انتظامات
ملک بھر میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے اور کئی علاقے بالخصوص صوبہ پنجاب اس وقت سیلابی خدشات کی زد میں ہے۔ ایک طرف مون سون کے نئے سپیل سے مختلف شہروں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے جبکہ دوسری جانب دریاؤں میں پانی کی بلند ہوتی سطح خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہے۔ پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق دریائے سندھ میں کالا باغ‘ چشمہ اور تونسہ کے مقام پر‘ دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اور نارروال کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا جبکہ وزیر آباد میں نالہ پلکھو میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ بالائی علاقوں میں بارشیں رکنے سے دریائے چناب میں سیلابی صورتحال میں کمی ہو رہی ہے تاہم بھارت کی آبی جارحیت اور باکھڑا ڈیم سے پانی چھوڑنے کے باعث مرالہ‘ خانکی‘ قادر آباد اور تریموں کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے ستلج اور جہلم میں اس وقت پانی کا بہاؤ نارمل ہے۔ دوسری طرف فیروزوالا میں شدید بارش کے باعث کئی علاقے زیر آب آ گئے جبکہ نالے میں طغیانی سے ریلوے کا ایک پُل بھی بہہ گیا جس سے لاہور سے فیصل آباد ریلوے سیکشن پر ٹرین آپریشن عارضی طور پر معطل ہو گیا اور متعدد ٹرینوں کے روٹس تبدیل اور بعض ٹرینیں منسوخ کر دی گئیں۔ مریدکے‘ منڈی بہاء الدین‘ چنیوٹ‘ سیالکوٹ‘ مظفر گڑھ اور جھنگ سمیت متعدد علاقوں میں پانی کھیتوں میں داخل ہونے سے ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ محکمہ موسمیات 29جولائی سے بارشوں کے نئے سلسلے کا امکان ظاہر کر رہا ہے۔

بھارت میں پنجاب کے دریاؤں پر بنائے گئے اکثر ڈیم پہلے ہی بھر چکے ہیں اس لیے اُن علاقوں میں رواں ہفتے مزید بارشوں کی صورت میں اضافی پانی پاکستان کی طرف ہی چھوڑا جانے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ ممکنہ خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ بھارت کی جانب سے کتنا پانی چھوڑا جا سکتا اور اسکے ہمارے علاقوں میں جو اثرات ہو سکتے ہیں اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو چوکس رہنا چاہیے۔ پانی آنے کے بعد تو صرف ریسکیو ہی کا کام کیا جا سکتا‘ اپنے شہروں کو سیلابوں سے محفوظ بنانے کیلئے ہمیں دیرپا پلاننگ کرنا ہو گی۔ عالمی موسمیاتی تغیرات کے ساتھ بے موسمی اور غیرمعمولی بارشیں اب معمول بن چکی ہیں اور بارشوں کے نقصانات کی شدت ہر سال بڑھتی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس مون سون میں بارشوں اور سیلاب سے ملک کو 822ارب روپے کا نقصان ہوا۔ دو لاکھ سے زائد افراد ملک بھر میں اپنی ملازمتوں سے محروم ہو گئے جبکہ ملک کی معاشی نمو بھی شدید متاثر ہوئی اور جی ڈی پی نمو کا ہدف تک کم کرنا پڑا۔ ہمارے لیے سیلاب سماجی سے زیادہ اب معاشی بقا کا بھی مسئلہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ برس مون سون سیزن میں ملک بھر میں اوسط بارش 172.8 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی‘ جو معمول کی 140.9 ملی میٹر بارش سے 23 فیصد زیادہ تھی۔ موسمیاتی ماہرین رواں سال بھی زیادہ بارشوں اور ایل نینو اثرات کے سبب مون سون کے فوری بعد سے 2027ء کے ابتدائی مہینوں تک بارشوں کی کمی اور خشک سالی کا خطرہ ظاہر کر رہے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلیوں کو پلٹنا تو ہمارے بس میں نہیں مگر مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے اسکے نقصانات کو کم ضرور کیا جا سکتا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب ہم اس کیلئے بروقت تیار ہوں۔ نئے آبی ذخائر کی تعمیر سے نہ صرف سیلابی پانی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے بلکہ خشک سالی میں یہ پانی کی فراہمی کا موثر ذریعہ بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ دریائی گزرگاہوں‘ برساتی نالوں اور شہروں میں سیوریج سسٹم کی توسیع اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں اربوں روپے اور زرعی پیداوار میں کمی کا نقصان اٹھانے سے کہیں بہتر ہے کہ اس حوالے سے پائیدار اور دیرپا منصوبہ بندی کی جائے۔ سیلاب سے بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ پانی آنے سے پہلے پانی سے بچاؤ کا بندوبست کیا جائے۔