اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

پٹرولیم مصنوعات، ریلیف ناکافی

حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا یومیہ بنیاد پر تعین کرنے کے فیصلے کا یہ جواز پیش کیا گیا تھا کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں ہونے والی کمی کا فائدہ فوری طور پر عوام تک منتقل کیا جا سکے گا۔ لیکن گزشتہ پندرہ روز کے تجربے نے اس دعوے پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس عرصے میں ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 70 اور پٹرول کی قیمت میں 25 روپے فی لٹر سے زائد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ کمی کے مواقع پر صارفین کو محض دو چار روپے تک کا ناکافی ریلیف ملا۔ یعنی قیمتیں بڑھانے میں تو روزانہ کے نظام پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے مگر عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ منتقل کرنے میں وہی سرعت دکھائی نہیں دیتی۔

گزشتہ روز بھی عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً پانچ فیصد کمی کے بعد 83.8 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت تقریباً چھ فیصد کمی کے بعد تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فوری اثر مقامی قیمتوں میں بھی نظر آنا چاہیے۔ حکومت کو چاہیے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین کے نظام کو صرف اضافے کا ذریعہ نہ بنائے بلکہ عالمی منڈی میں کمی کا فائدہ بھی فوری‘ شفاف اور مکمل طور پر صارفین تک منتقل کرے۔ اسی کیساتھ پٹرولیم لیوی‘ مارجنز اور دیگر ٹیکسوں میں مناسب کمی پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں