مہنگائی، چیلنج برقرار
ملک میں افراطِ زر کی سالانہ شرح گزشتہ ماہ 9.2 فیصد ریکارڈ کی گئی‘جبکہ گزشتہ سال جولائی میں مہنگائی کی شرح 4.1فیصد تھی اور اگست میں تین فیصد ۔ اس کے بعد مہنگائی کا گراف مسلسل بلند ہونا شروع ہو گیا اور سال کے آخر تک مہنگائی کی شرح چھ فیصد تک پہنچ گئی۔ تاہم رواں سال کے آغاز میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو امریکہ ایران جنگ نے بھی بڑھاوا دیا اور مارچ میں 7.3فیصد اور اپریل میں 10.9فیصدکیساتھ مہنگائی جولائی 2024ء کے بعد دوبارہ دہرے ہندسے میں داخل ہو گئی۔ مئی میں 11.7 فیصد اور جون میں 11.1فیصد کی بلندیوں پر رہنے کے بعد اگرچہ جولائی میں مہنگائی 9.2فیصد کیساتھ دوبارہ اکہرے ہندسے میں واپس آگئی ہے لیکن اب بھی یہ بلند ترین سطح پر ہے اور پٹرولیم قیمتوں کے یومیہ تعین کی صورت میں جس طرح ہر روز قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ‘ اس کے اثرات افراطِ زر میں اضافے کی صورت میں سامنے آئیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ عام آدمی کی معیشت مہنگائی میں کمی کے تصور سے ناآشنا ہو چکی ہے۔ معیشت کے وہ بنیادی ستون جو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں‘ ہمارے ہاں اندرونی اور بیرونی دباؤ کے باعث شدید کھچاؤ کا شکار ہیں۔

مہنگائی کے اس نئے طوفان کا بڑا محرک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے درپے اضافہ ہے۔ جب ڈیزل اور پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو زراعت اور صنعتوں کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور اس کا براہِ راست اثر ہر اُس شے پر پڑتا ہے جو بندرگاہوں‘ فیکٹریوں‘ کھیتوں اور منڈیوں سے بازار تک کا سفر کرتی ہے۔ تیل درآمد کرنے والے ملک کی حیثیت سے پاکستان کی معیشت براہِ راست خلیج کے حالات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے جڑی ہوئی ہے۔ جب تک تیل کی قیمتوں میں استحکام نہیں آتا‘ افراطِ زر میں پائیدار کمی بھی ممکن نہیں‘اور تیل کی قیمتوں پر حکومتی محصولات کی موجودہ شرح کے ہوتے ہوئے اس کی امید کرناخاصا مشکل ہے کہ صارفین کیلئے حقیقی معنوں میں تیل سستا ہو گا۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ افراطِ زر میں کسی مہینے عارضی اور معمولی کمی معیشت میں مستحکم آسانیوں کا سبب بنتی نظر نہیں آتی بلکہ عالمی بے یقینی کی صورتحال میں مہنگائی کا گراف مزید بڑھنے کے خدشات زیادہ قوی ہیں۔ پاکستان کی معیشت کیلئے خلیج کی جنگ اور عالمی تیل کی منڈیوں کا اتار چڑھائو بلاشبہ بڑا اثر رکھتا ہے مگر مہنگائی میں اضافے کے اسباب صرف اس جنگ سے جڑے ہوئے نہیں ہیں۔
گزشتہ ماہ اشیائے خوردنی میں ٹماٹر کی قیمت میں 116.75 فیصد‘ سبزیوں کی قیمت میں 22فیصد ‘پیاز20فیصد‘ مرغی 19 فیصد‘ گندم7.4فیصداورآٹا 6.75فیصد مہنگا ہوا۔ جبکہ سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر 174.74فیصد، گندم 77.71فیصد، پیاز 75.86فیصد، گندم کا آٹا 67.56فیصد اور گوشت 14.53فیصد مہنگا ہوا۔اشیا کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف تیل کی مہنگائی کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اشیاکی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور طلب و رسد کا توازن قائم رکھنے کیلئے جو کچھ حکومتی سطح پر ہونا چاہیے وہ ہوتا نظر نہیں آتا۔علاقائی جنگ کے اثرات اپنی جگہ مگر اپنی ناکامیوں کے نتائج کو جنگ کے ذمہ نہیں لگایا جا سکتا۔ اربابِ حکومت ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کو مہنگائی کا حقیقی ذمہ دار قرار دے چکے ہیں‘ لہٰذا انکی مؤثر روک تھام سے بھی مہنگائی کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔تیل کی قیمتوں میں عالمی منڈیوں کے براہِ راست اثرات سے ہماری معیشت کو لگنے والے جھٹکوں کی بڑی وجہ بھی ہماری حکومتوں کی یہ ناکامی ہے کہ ملک میں تیل کے محفوظ ذخائر تعمیر نہیں کیے جاسکے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توانائی کی درآمد پر انحصار بڑھ گیا۔
ملکی آبادی پچیس کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے مگر حکومتی سطح پر ایسے ذخائر کی تعمیر کا کسی کو خیال نہ آنا حیران کن ہے۔ بہرکیف حال ہی میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم پالیسی میں ترمیم اور سٹرٹیجک پٹرولیم ذخائر کی تعمیر کا فیصلہ دیر آید درست آیدکے مصداق خوش آئند ہے۔