اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

چینی برآمد کا مطالبہ؟

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے پانچ لاکھ 85 ہزار ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت طلب کی ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ ملک میں چینی کے وافر ذخائر موجود ہیں جبکہ برآمد کی اجازت نہ ملنے سے شوگر ملوں اور صنعت کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ بظاہر یہ دلائل قابلِ غور محسوس ہوتے ہیں لیکن ماضی کے تلخ تجربات کسی بھی فیصلے سے پہلے غیرمعمولی احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ چینی برآمد کی اجازت دینے سے قبل ملک بھر میں چینی کے دستیاب ذخائر اور مقامی کھپت کا آزادانہ اور شفاف آڈٹ کرائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ملکی ضرورت سے زائد چینی موجود ہے یا نہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے ایک ہی طرزِ عمل بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ پہلے یہ مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ ملک میں ضرورت سے زیادہ چینی موجود ہے جس کی بنیاد پر برآمد کی اجازت دے دی جاتی ہے‘ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد مقامی مارکیٹ میں قلت پیدا ہو جاتی ہے‘ قیمتیں بے قابو ہو جاتی ہیں اور حکومت کو مہنگے داموں چینی درآمد کرنا پڑتی ہے۔

اس پورے عمل کا مالی بوجھ عوام اور قومی خزانے دونوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا حکومت کو چینی کے ذخائر کی آزادانہ مانیٹرنگ‘ شفاف ڈیٹا‘ حقیقی طلب و رسد کی بنیاد پر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ اگر واقعی ملکی ضروریات سے زائد چینی موجود ہو تو برآمد کی اجازت دی جا سکتی ہے لیکن اگر اس معاملے میں معمولی سی بھی غلطی ہوئی تو اس کے نتائج ایک مرتبہ پھر عوام کو مہنگی چینی کی صورت میں بھگتنا پڑیں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں