اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی کے وار جاری

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق 13 اگست کو ختم ہونے والے کاروباری ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور ہفتہ وار مہنگائی 9.11 فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ٹماٹر کی قیمت میں 143 فیصد‘ پیاز 125‘ آٹا 77‘ ایل پی جی 55‘ ڈیزل 35 اور پٹرول کی قیمت میں تقریباً 23فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی میں یہ اضافہ کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں ہے۔ زرعی لاگت میں مسلسل اضافہ‘ مہنگی توانائی‘ درآمدی اشیا اور خام مال پر انحصار‘ کمزور رسد کا نظام‘ غربت‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری سب مل کر قیمتوں کے دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حکومت اکثر ان بنیادی خرابیوں کو دور کرنے کے بجائے قیمتیں بڑھنے کے بعد انتظامی کارروائیوں تک محدود رہتی ہے۔

اگر کسان کی پیداواری لاگت بڑھ رہی ہو اور زرعی سہولتیں محدود ہوں تو اس صورتحال کا دباؤ قیمتوں پر آنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح توانائی کی قیمتیں بھی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھاتی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وقتی ریلیف اور نمائشی پرائس کنٹرول اقدامات سے آگے بڑھے‘ اور ایک جامع پالیسی تشکیل دے جس میں بیک وقت پیداواری لاگت میں کمی‘ توانائی کے شعبے میں اصلاحات‘ زرعی پیداوار میں اضافہ‘ منافع خوری کے خلاف مؤثر نظام‘ درآمدی انحصار میں کمی اور عوام کی حقیقی آمدن میں اضافے جیسے اقدامات شامل ہوں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں