پانی پاکستان کی ریڈ لائن
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے اور اگر بھارت راہِ راست پر نہ آیا تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ یومِ آزادی کے موقع پر وزیراعظم کا یہ بے لاگ اور دوٹوک اعلان اس بات کا غماز ہے کہ پانی کا مسئلہ محض ایک سفارتی یا تکنیکی تنازع نہیں رہا بلکہ ملکی و قومی سلامتی کا حساس مسئلہ بن چکا ہے۔ بھارت کی مسلسل آبی جارحیت نے پاکستان کی زراعت‘ معیشت اور استحکام کو ایسے سنگین خطرے سے دوچار کر دیا ہے جس پر مزید خاموشی یا سستی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی معیشت‘ روزگار اور غذائی تحفظ کا دارو مدار براہِ راست ان دریاؤں پر ہے جو بالائی علاقوں سے بہتے ہوئے ہمارے میدانوں کو سیراب کرتے ہیں۔ جب بھارت ان دریاؤں کے بہاؤ کو اپنی مرضی سے کنٹرول کرنے‘ ان کا پانی روکنے یا یکطرفہ طور پر استعمال کرنے کی کوشش کرتا ہے تو دراصل وہ پاکستان کی زراعت اور معیشت پر وار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت کی آبی جارحیت کا ایک بھیانک رخ حالیہ مون سون کے دوران سامنے آیا جب بغیر کسی پیشگی اطلاع یا مروجہ قوانین کی پاسداری کیے بغیر بھارت نے اچانک لاکھوں کیوسک پانی پاکستانی حدود میں چھوڑ دیا۔

رواں سال صرف سلال ڈیم سے ہی گیارہ مرتبہ پانی چھوڑا گیا جس سے پاکستان کے سرحدی اضلاع اور دیہات میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ بھارت کا یہ رویہ عالمی قوانین اور دونوں ممالک میں طے شدہ معاہدے کے سراسر منافی ہے۔ آبی تنازعات کے حل کیلئے 1960ء میں دونوں ممالک نے سندھ طاس معاہدے پر دستخط کیے تھے‘ جو ایسے تمام مسائل کا واضح اور جامع حل سجھاتا ہے۔ یہ معاہدہ فریقین کو پابند کرتا ہے کہ وہ پانی کے بہاؤ‘ ڈیموں کی ساخت اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے بارے میں ایک دوسرے کو بروقت اور شفاف معلومات فراہم کریں۔ مگر گزشتہ سال اپریل سے پہلگام فالس فلیگ واقعے کو بنیاد بنا کر بھارت نہ صرف معاہدے پر عملدرآمد سے یکسر انکاری ہے بلکہ پکل ڈُل‘ کِیرو‘ کوار اور رتلے پن جیسے متنازع منصوبوں پر بھی کام تیز کر چکا جو معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ پاکستان کے اعتراضات پر نئی دہلی اب تک ٹال مٹول اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مودی حکومت کے معاہدے کو منسوخ کرنے کے اعلانات کے جواب میں ورلڈ بینک‘ جو سندھ طاس معاہدے کا ثالث ہے‘ پہلے ہی یہ واضح کر چکا ہے کہ سندھ طاس ایک عالمی اور کثیر جہتی معاہدہ ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل‘ ختم یا اس میں ترمیم نہیں کر سکتا۔
بین الاقوامی برادری کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سندھ طاس معاہدے کی پامالی خطے کو ایک ہولناک صورتحال کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ ورلڈ بینک اس معاہدے کا ضامن اور ثالث ہے اس لیے یہ اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ بھارت پر سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کیلئے زور دے۔ موجودہ حالات متقاضی ہیں کہ اب بھارت کی اس منظم آبی جارحیت کو مؤثر‘ جارحانہ اور تکنیکی انداز سے عالمی فورمز بالخصوص عالمی عدالت انصاف اور عالمی ثالثی عدالت میں اٹھایا جائے۔ دنیا پر بھارت کی آبی دہشت گردی اور ماحولیاتی جارحیت واضح کرنے کیلئے ٹھوس تکنیکی شواہد‘ سٹیلائٹ ڈیٹا اور سیلاب کے نقصانات کی تفصیلی رپورٹس کے ساتھ اپنا مقدمہ تیار کرنا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ بار بار پانی روکنے اور پھر مسلسل پانی چھوڑنے جیسے اقدامات پاکستان کی معیشت کو مفلوج کرنے کی ایک سوچی سمجھی چال ہیں۔
عالمی سطح پر مضبوط اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے ہی بھارت پر بین الاقوامی دباؤ بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے اس اعلان سے کہ پانی ہماری ریڈ لائن ہے‘ عالمی برادری پر واضح ہوجانا چاہیے کہ بھارت کو آبی غنڈہ گردی سے نہ روکا گیا تو پاکستان اپنے دفاع اور بقا کیلئے کسی بھی حد تک جانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔