اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گڈز ٹرانسپورٹیشن، مستقل حل ناگزیر

گزشتہ روز حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد گڈز ٹرانسپورٹرز نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ نو روز سے جاری ہڑتال سے ملکی معیشت کو 50 ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا جبکہ بندرگاہوں سے یومیہ نکلنے والے تقریباً 10 ہزار کنٹینرز کی آمدورفت مکمل طور پر رک گئی‘ جس سے ملک کے بالائی علاقوں کو اشیائے ضروریہ اور خوراک کے علاوہ فیکٹریوں اور صنعتوں کو خام مال کی ترسیل بھی شدید متاثر ہوئی۔ یہ خوش آئند امر ہے کہ فریقین میں معاملات طے پا گئے‘ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب دنیا بھر میں مال برداری کیلئے ریلویز کو سب سے محفوظ‘ تیز رفتار اور سستا ذریعہ مانا جاتا ہے تو پاکستان اس اہم ترین شعبے میں معکوس ترقی کا شکار کیوں ہے۔

قیامِ پاکستان کے وقت ہمیں وسیع ریلوے نیٹ ورک ملا تھا لیکن دہائیوں کی بدانتظامی‘ کرپشن اور کوتاہ بینی نے ریلوے کے محکمے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا۔ آج پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اس دور میں کارگو ٹرینیں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا حالیہ ہڑتال کو ایک عارضی بحران کے بجائے مستقبل کی پیش بندی کا پہلا قدم بناتے ہوئے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت ریلویز کے کارگو سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرے۔ ملکی معیشت کو ہڑتالوں اور ان کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کیلئے مال برداری کے متنوع اور مستحکم ذرائع پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں