انتظامی یونٹس ناگزیر کیوں
ملکِ عزیز میں گورننس‘ انتظامی کارکردگی اور عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں درپیش مشکلات ایک عرصے سے قومی بحث کا موضوع ہیں۔ یہ سوال جب بھی زیر بحث آتا ہے ملک کے انتظامی نقشے پر ضرور سوال اٹھتے ہیں۔ اصل میں اس حقیقت کا ادراک بہت پہلے ہو چکا تھا کہ ملک میں انتظامی بحران سے نمٹنے کیلئے نئے صوبوں کی تشکیل ضروری ہے۔ اس غرض سے مختلف حکومتوں میں غورو فکر یا کام کی نوبت بھی آئی۔ یہی کام دنیا کے اکثر ممالک میں بھی ہوا‘ مگر جو کام وہاں بلاحیل وحجت انجام پا گیا ہمارے ہاں اسے کئی سیاسی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور یہ ضروری کام جو اصولی طور پر نصف صدی پہلے ہو جانا چاہیے تاحال تشنہ تکمیل ہے۔ مگر اس سے وابستہ مسائل کم نہیں ہوئے‘ بلکہ وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہوا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ قومی ضروریات کئی گنا بڑھ چکی ہیں مگر اس کیلئے جو انتظامی ڈھانچہ درکار ہے وہ استوار نہیں ہو سکا۔ نتیجتاً پاکستان‘ وسائل کے باوجود مسائل کے جناتی چکر سے نکل نہیں پاتا۔ حالیہ دنوں یہ موضوع ایک بار پھر قومی مباحثے کا حصہ بنا ہے اور ہر طبقے کے صاحبانِ رائے اور عوام اس حوالے سے اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک میں ’’کیا ملک میں نئے انتظامی یونٹس قائم ہونے چاہئیں؟‘‘کے موضوع پر قومی مباحثے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا تقاضا محض نقشے پر نئی حد بندی تک محدود نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ ریاستی نظام کو کس طرح اس قابل بنایا جائے کہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوں‘ وسائل منصفانہ انداز میں تقسیم ہوں اور انتظامیہ فوری فیصلے کر سکے۔ ملک لوگوں سے بنتا ہے اور ریاستی نظام کا بنیادی مقصد بھی عوام کی فلاح وبہبود ہونا چاہیے۔ اگر کسی انتظامی یونٹ کا حجم اتنا بڑا ہو جائے کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھ جائے تو انتظامی مسائل پیدا ہونا فطری امر ہے۔ آبادی کا بڑا حجم صوبائی انتظامی صلاحیتوں کیلئے پیچیدہ انتظامی چیلنجز کا سبب بنتا ہے۔ چھوٹے انتظامی یونٹس کا تصور اسی لیے اہم ہے کہ نسبتاً محدود علاقے میں حکومت کیلئے انتظامی نگرانی‘ وسائل کی منصوبہ بندی اور عوامی مسائل کا فوری ازالہ آسان ہو سکتا ہے۔ پاکستان کا ایک بڑا اور بنیادی نوعیت کا انتظامی مسئلہ اختیارات کی مرکزیت ہے۔ اگر صوبائی حکومتیں تمام اختیارات اپنے پاس رکھیں اور مقامی حکومتیں مالی اور انتظامی طور پر بے اختیار ہوں تو صوبوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود عام شہری کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔
جب مقامی حکومتیں بااختیار ہوں‘ اختیارات واضح ہوں اور منتخب نمائندے اپنے علاقے کے مسائل کیلئے جوابدہ ہوں تو جمہوری عمل عوام کی روز مرہ زندگی سے جُڑ جاتا ہے۔ وسائل کی منصفانہ تقسیم اس پورے عمل کا اہم حصہ ہے اور بلدیاتی نظام بھی اسی صورت کامیاب ہو سکتا ہے جب وسائل اور اختیارات اسے کسی صوبائی حکومت سے مستعار نہ لینا پڑیں‘ وہ براہ راست ان اختیارات کی حامل ہو اور وسائل اس کی دسترس میں ہوں۔ اس لیے بلدیاتی نظام اکیلا نئے انتظامی یونٹس کا متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلدیاتی نظام تو آئین کی رُو سے پہلے بھی موجود ہے‘ مگر اس پر کہاں اور کتنا عمل ہوا اور کیا تبدیلی آئی؟ بلدیاتی اداروں کی کسمپرسی بذات خود بڑی دلیل ہے نئے صوبوں کی تشکیل کے حق میں۔ پاکستان کو اب اس بحث کو سیاسی نعروں سے نکال کر عملی پالیسی کی سطح پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ نئے انتظامی یونٹس‘ مضبوط بلدیاتی ادارے‘ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہوگی۔ پاکستان کو بڑے صوبوں کی نہیں بہتر حکمرانی کی ضرورت ہے۔ اگر چھوٹے انتظامی یونٹس عوامی اختیار‘ مضبوط بلدیاتی نظام‘ شفاف وسائل کی تقسیم اور جوابدہ حکومت کے ساتھ قائم کیے جائیں تو یہ ملکی انتظامی اور معاشی مسائل کے حل کی جانب بڑی پیش قدمی ہو گی۔