اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

چھوٹے صوبے، وسائل کی منصفانہ تقسیم

’’کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟‘‘ یہ سوال ہماری سیاسی‘ انتظامی اور معاشی تاریخ میں ہمیشہ سے ایک حساس موضوع رہا ہے۔ پاکستان رقبے اور آبادی کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے لیکن انتظامی ڈھانچے کے اعتبار سے یہاں اب بھی چار صوبے ہیں جو موجودہ دور کے تقاضوں اور کروڑوں انسانوں کی انتظامی‘ معاشی اور سماجی ضروریات کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ گزشتہ روز اسلام آباد میں قومی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس موضوع پر ایک تھنک ٹینک کے قومی مباحثے میں حصہ لیا اور شرکا کی اکثریت اس بات پر متفق نظر آئی کہ پاکستان کو اب جمود کو توڑتے ہوئے نئے صوبوں اور چھوٹے انتظامی یونٹس کی طرف بڑھنا چاہیے۔ نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے ایک بڑی غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ اس سے انتظامی اخراجات میں اضافہ ہو گا‘ تاہم اس قومی مباحثے میں چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز اور سابق ناظم لاہور میاں عامر محمود نے بتایا کہ اس عمل سے 40 ہزار سے زائد اسامیاں ختم ہوں گی اور سالانہ 300 ارب روپے کی بچت ہو گی۔ یہ بات فکر انگیز بھی ہے اور قابلِ فہم بھی۔ صوبوں کی تقسیم اور نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے اکثر دیگر اعتراضات بھی اسی طرح بے بنیاد اور مفروضے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جب ایک بڑا صوبہ چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم ہوتا ہے تو وسائل دور دراز کے پسماندہ علاقوں تک براہِ راست پہنچتے ہیں۔ چھوٹے صوبے یا انتظامی یونٹس بننے سے فیصلہ سازی کا عمل تیز‘ نگرانی کا نظام سخت ‘ احتساب مؤثر اور کارکردگی میں بہترآئے گی اور ترقیاتی فنڈز کی براہِ راست منتقلی سے خطیر رقوم براہ راست نچلی سطح تک پہنچ سکیں گی۔ رواں مالی سال این ایف سی ایوارڈ کے تحت 8848 ارب روپے چاروں صوبوں میں تقسیم ہوں گے۔عملاً یہ رقوم وفاق سے چار صوبائی دارالحکومتوں کو منتقل ہوں گی جو اپنی صوابدید کے مطابق انہیں مختلف مدات میں خرچ کریں گے۔ اگر ڈویژن کو صوبے کا درجہ حاصل ہوجائے تو یہی رقم جو چار صوبائی دارالحکومتوں کے سپرد کی جائے گی 33 ڈویژنز میں تقسیم ہو کر ملک کے طول و عرض میں عوامی فلاح و بہبود اور ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو سکتی ہے۔ اس سے گورننس میں مثالی بہتری آئے گی اور طویل المیعاد بنیادوں پر اخراجات کی بچت اور معاشی خود کفالت ممکن ہوسکتی ہے۔

دنیا کی سیاسی اور انتظامی تاریخ کا مطالعہ کریں تو بہتر گورننس کیلئے انتظامی یونٹس کو مختصر اور محدود رکھنا صدیوں کی انسانی دانش اور تجربے کا نچوڑ ہے اور اس آفاقی اصول سے انحراف کسی بھی صورت ممکن نہیں۔ پاکستان میں اس مسلمہ اصول سے انحراف کیا جا رہا جس کی سزا یہاں کے عوام بھگت رہے ہیں۔موجودہ انتظامی اور سیاسی بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ اسکے سوا کوئی نہیں کہ ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں اور ایک فعال اور بااختیار بلدیاتی نظام رائج ہو‘ حکومت کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا جائے اور ملک میں بلاامتیاز احتساب کا نظام نافذ کیا جائے۔ اسی طرح ملک میں گورننس کا ایسا جدید اور مثالی ماڈل تشکیل پا سکتا ہے جس میں عوام سر اٹھا کر چل سکتے ہیں‘ ذمہ داری کا احساس پیدا کر سکتے ہیں اور ملک کے ساتھ تعلق کو حقیقی معنوں میں محسوس کر سکتے ہیں۔ کسی بھی ملک کا نظام جب عوام کا اطمینان اور اعتبار کھو دے تو اس کی تبدیلی میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔

عوام اور ریاست کے درمیان تعلق کی اہمیت اسی سے ثابت ہوتی ہے کہ ریاست عوام کے احساسات‘ جذبات اور مفادات کو اہمیت دے رہی ہے یا ایک ایسے نظام کو جس کی ناکامی طشت ازبام ہے۔ خوش آئند بات ہے کہ سیاسی حلقوں میں نئے انتظامی یونٹس کے تصور کا خیر مقدم کیا گیا ہے جو قومی اتفاقِ رائے کی علامت قرار دیا جا سکتا ہے۔ ضروری ہے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں مشاورت ہو اور ایسا لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے اتفاقِ رائے سے صوبوں کی انتظامی تقسیم عملی صورت اختیار کر سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں