ہسپتال ویسٹ ری سائیکلنگ
ہسپتالوں کے پلاسٹک کچرے کی ری سائیکلنگ اور اس سے انسانی ضرورت کی اشیا کی تیاری کی شکایات کے باوجود اس گھناؤنے دھندے کی روک تھام کیلئے مؤثر اقدامات نہ ہونا باعث تشویش ہے۔ ایک خبر کے مطابق صوبہ سندھ کے تمام سرکاری ہسپتالوں سے نکلنے والے طبی فضلے کو صرف 5 ٹیچنگ ہسپتالوں میں سائنسی بنیادوں پر تلف کیا جاتا ہے ۔یہ صورتحال کئی سوال پیدا کرتی ہے ۔ بنیادی بات یہ ہے کہ صوبائی حکومتیں یہ جاننے کے باوجود کہ ہسپتالوں کا کچرا انسانی صحت کیلئے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے‘ اس کچرے کو ٹھکانے لگانے کے مشینی انتظامات میں ناکام کیوں ہیں۔

جب ہسپتالوں میں ایسی سہولتیں نہیں ہوں گی اور پلاسٹک کا یہ کچرا مناسب طریقے سے تلف نہیں ہو گا تو یہ اندیشہ موجود ہے کہ یہ ان کچرا فروشوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائے گا جو اس میں سے پلاسٹک کے اجزا کو الگ کر کے وہ پلاسٹک ری سائیکل کرنے کیلئے فیکٹریوں میں بھیجیں گے۔ یہ عمل نہ صرف ماحولیاتی اعتبار سے بلکہ طبی اعتبار سے بھی نہایت خطرناک ہے ۔ حکومتوں کو چاہیے کہ اس معاملے میں خصوصی انتظامات کریں اور ہسپتالوں کے پلاسٹک کی تلفی کے مناسب بندوبست یقینی بنائیں اور ہر ممکن طریقے سے اس پلاسٹک کی ری سائیکلنگ اور اس سے انسانی ضرورت کی اشیا تیار کرنے کیلئے اس کے استعمال کی روک تھام یقینی بنائیں۔