چینی، پالیسی کا تضاد
وفاقی حکومت نے گزشتہ سال درآمد کی گئی چینی کو دوبارہ برآمد کرنے کا عمل شروع کرتے ہوئے ایک لاکھ سات ہزار 739 ٹن چینی کی برآمد کے لیے ٹینڈر جاری کر دیے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ برس 50 ارب روپے کی لاگت سے تقریباً تین لاکھ ٹن چینی درآمد کی تھی۔ سوال یہ ہے کہ قیمتی زرِ مبادلہ خرچ کرنے سے پہلے مقامی ضروریات کا درست تخمینہ کیوں نہیں لگایا گیا‘ کہ اب وہی درآمد کی گئی چینی برآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ قومی زرمبادلہ سے مہنگی چینی درآمد کر کے اسے دوبارہ برآمد کرنا کوئی مستحکم اور دانشمندانہ پالیسی نہیں۔ اس سے قبل گزشتہ برسوں کا تجربہ یہ رہا ہے کہ پہلے ملکی ضرورت سے زائد ذخائر کا دعویٰ کرکے چینی برآمد کی گئی اور پھر قلت پیدا ہوئی تو مہنگی چینی درآمدکرنا پڑی۔ لیکن اس بار درآمد شدہ چینی کو ہی برآمد کیا جا رہا ہے۔

یہی طرزِعمل گندم کے معاملے میں بھی دیکھنے کو ملتا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال طویل مدتی فوڈ سکیورٹی پالیسی کے لیے سنجیدہ سوال ہے۔ اس دوران عوام کو چینی کی قلت اور گراں فروشی جیسے مسائل جبکہ حکومت کو قیمتی زرمبادلہ کا زیاں بھگتنا پڑا لہٰذا اس معاملے کو محض تخمینے کی غلطی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو مؤثر بنانے کے ساتھ ساتھ نیشنل فوڈ سکیورٹی اور ٹریڈنگ کارپوریشن کے نظام میں موجود خامیوں کا بھی جائزہ لینا ہو گا کہ کیا وجہ ہے کہ درآمد شدہ چینی بروقت مارکیٹ میں فراہم نہ کی جا سکی اور گوداموں میں پڑی رہ گئی۔