اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل

اسلام آباد کو صوبائی طرز پر خود مختار یونٹ بنانے کا ڈرافٹ وزیراعظم کو پیش کر دیا گیا ہے‘ جس میں اسلام آباد کیلئے صوبائی طرز کی انتظامی اور مالی خودمختاری‘ منتخب اسمبلی اور اپنے چیف ایگزیکٹو کی سفارش کی گئی ہے۔ اس وقت جب ملک میں نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ زور پکڑ چکا ہے یہ پیش رفت خوش آئند ہے۔ انتظامی بنیادوں پر نئے صوبائی یونٹس کے قیام کی ضرورت و اہمیت ظاہر و باہر ہے۔ یہ مطالبہ آوازِ خلق بن چکا ہے اور یہ باور کیا جا رہا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس کی تشکیل سے حکومت اور عوام میں فاصلے سمٹ سکتے ہیں‘ ترقی کے وسائل کی ترسیل کا عمل بہتر ہو سکتا ہے اور صوبائی خود مختاری کے حقیقی فوائد عوام تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں اکثر مسائل اور محرومیاں خواہ وہ تعلیم اور صحت کے حوالے سے ہوں یا ترقی اور خوشحالی کے‘ حکومت اور عوام کے فاصلوں کی وجہ سے ہیں۔ صوبوں کا حجم بہت بڑا ہے مگر صوبوں میں ترقی اور خوشحالی کے ثمرات یکساں نظر نہیں آتے۔

صوبائی دارالحکومتوں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر ‘ قصبے اور دیہات اس ترقی کے مظاہر سے محروم ہیں جو صوبائی دارالحکومتوں کا مقدر ٹھہرتی ہے۔ ترقی کے اس تفاوت کا نتیجہ یہ ہے کہ ملک بھر میں صوبائی دارالحکومتوں کی جانب نقل مکانی کا رجحان بہت بڑھ چکا ہے جس سے ان بڑے شہروں میں مزید کئی طرح کے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہ صورتحال بذاتِ خود صوبوں کی انتظامی تقسیم کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ بہت اچھا ہوتا کہ یہ کام کئی دہائیاں پہلے ہو چکا ہوتا۔ اگر نہیں ہوا تو اسے مزید التوا میں ڈال کر مزید قومی نقصان سے بچنا چاہیے۔ یہی ملکِ عزیز کے عوام کی ترقی‘ خوشحالی‘ امن وسلامتی اور سماجی اطمینان کی بنیاد ہے۔ ان حالات میں جب چاروں صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کا معاملہ زیر بحث ہے‘ وفاقی دارالحکومت اسلام آبا د کو نئے انتظامی ماڈل میں ڈھالنے کے حوالے سے ہونے والی پیش رفت ایک مستحسن اقدام ہے۔ مجوزہ منصوبے کے مطابق وفاقی دارالحکومت کو اپنی حکومت‘ اسمبلی اور انتظامی ڈھانچہ‘ اختیار اور مالیاتی خودمختاری دینے کی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

اسلام آباد شہر اقتدار کہلاتا ہے مگر اس کے باوجود اس شہر کے انتظامی حالات قابلِ رحم ہیں۔ بڑھتے ہوئے جرائم‘ بے ہنگم آباد کاری‘ تجاوزات‘ شہری سہولتوں کی عدم فراہمی اور عوامی زندگی کیلئے بڑھتے ہوئے مسائل شہر اقتدار کے باسیوں کیلئے ہی نہیں پورے ملک کیلئے باعثِ تشویش ہیں۔ پمز ہسپتال میں آتشزدگی کے حالیہ واقعے کو ایک عبرتناک مثال سمجھنا چاہیے کہ وہ شہر جو ملک کا صدر مقام ہے وہاں کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال میں ایک درمیانے درجے کی آگ کی ایمرجنسی سے نمٹنے کی صلاحیت بھی نہیں۔ یہ واقعات ان دائمی مسائل کی نشاندہی کرنے کیلئے کافی ہیں جو وفاقی دارالحکومت کے انتظامی نظام کو لاحق ہیں۔ اب جبکہ وزیراعظم کو اسلام آباد کی صوبائی طرز پر تشکیل کا مسودہ پیش کر دیا گیا ہے تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے میں پُرعزم انداز سے آگے بڑھے‘ اس کام کی تکمیل کا کریڈٹ لے اوراس کیساتھ چاروں وفاقی اکائیوں میں انتظامی یونٹس کی تشکیل کا کام شروع کرے۔

اس سلسلے میں سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت و اہمیت میں دو رائے نہیں۔ اصولی طور پر اس اہم قومی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے سیاسی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ پورے اعتماد کے ساتھ اس کام میں حصہ لیتیں۔ انتظامی بنیادوں پر صوبائی یونٹس کی تشکیل نوشتۂ دیوار ہے۔ یہ پاکستان کے عوام کا مقدر ہے اور مضبوط اور مستحکم پاکستان کی بنیاد۔ اب تک جو سیاسی دھڑے اس معاملے میں پس و پیش کا شکار ہیں ان کی اس گومگو کو وقتی شبہات کا نتیجہ سمجھنا چاہیے۔ امید کی جاتی ہے کہ وقت کیساتھ جب وہ اس معاملے پر مزید غور کریں گے اور صوبائی سطح پر انتظامی یونٹس کی ناگزیریت ان پر واضح ہو گی تو وہ بھی اپنے نقطہ نظر پر نظر ثانی کریں گے۔ ابھی اس معاملے میں شبہات کو اچھالنے کے بجائے اتفاق رائے اور مفاہمت کی کوششوں کی ضرورت ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں