اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

حساس ڈیٹا کی چوری

سائبر کرائم‘ اور عوامی شناخت اور حساس ڈیٹا کی چور بازاری خوفناک صورتحال اختیار کر چکی ہے۔ ایک خبر کے مطابق لاہور میں دو ملزمان کے قبضے سے تقریباً ایک کروڑ شہریوں کی حساس معلومات پر مشتمل تین ہزار جی بی ڈیٹا برآمد کیا گیا ہے ‘جس میں سم کارڈز کی ملکیت اور رجسٹریشن‘ کالوں کا تفصیلی ریکارڈ‘ صارفین کی لوکیشن‘ خاندانی شجرہ اور مختلف سرکاری اداروں سے متعلق حساس معلومات شامل ہیں۔  ملزمان نیشنل ڈیٹا بیس سے مشابہ ایک ویب سائٹ بنا کر اس ڈیٹا کی خریدو فروخت میں ملوث تھے۔  یہاں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کے حساس ڈیٹا تک ملزمان کی رسائی کیسے ہوئی؟

سم کارڈز کی ملکیت اور رجسٹریشن اور ان سے متعلق تفصیلات ٹیلی کام کمپنیوں کے پاس محفوظ ہوتی ہیں جبکہ شہریوں کا خاندانی شجرہ اور شناخت کا ڈیٹا نادرا کے پاس ہوتا ہے۔اگر یہ ڈیٹا ان اداروں سے چوری ہوا تو انکے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ شہریوں کے کوائف پر مبنی ڈیٹا کی چوری اور خریدو فروخت کا یہ پہلا واقعہ نہیں‘ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں مگر ہر نئے واقعے میں نیا طریقہ واردات یہ ظاہر کرتا ہے کہ دھندا کہیں رکا نہیں۔ شہریوں کا ذاتی ڈیٹا نجی اور سرکاری اداروں کے پاس امانت ہوتا ہے‘ اس امانت میں خیانت کیونکر ہوتی ہے‘ اسکا سراغ لگانا ضروری ہے تا کہ اس گھناؤنے جرم کا تدارک کیا جا سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں