پٹرولیم مصنوعات کی مہنگائی
مہنگائی کے ستائے عوام پر معاشی بوجھ بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت نے رواں ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں تیسری بار بڑھاتے ہوئے پٹرول کی قیمت میں 3 روپے40 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں6 روپے72 پیسے فی لٹر مزید اضافہ کر دیا ہے۔ تین روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 23 روپے 88 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے62 پیسے کا اضافہ کیا گیا۔ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اس ہوشربا اضافے کا جواز مشرقِ وسطیٰ کی جنگی صورتحال اور عالمی منڈی میں پیدا ہونیوالی بے یقینی کو قرار دیتی ہے۔ بلاشبہ علاقائی جنگی صورتحال نے عالمی توانائی کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے اور اسکے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ رہنا کسی ملک کیلئے آسان نہیں مگر یہ اثرات اس شدت کیساتھ صرف پاکستان ہی میں نظر آتے ہیں۔ خطے کے دیگر ممالک میں اس دوران پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت کم اضافہ ہوا۔

رواں سال یکم مارچ سے اب تک پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں 112 روپے‘ جبکہ اسی عرصے میں بھارت میں صرف آٹھ روپے اور بنگلہ دیش میں تقریباً 24ٹکہ فی لٹر کے قریب اضافہ ہوا۔ اگر دوسرے علاقائی ممالک مشکل عالمی حالات کے باوجود قیمتوں میں اس بھیانک طریقے سے اضافہ نہیں کررہے تو صرف پاکستان ہی میں ایسا کیوں؟ عالمی بحران کے معاشی اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر پاکستان میں اس صورتحال کو جس طرح عوام کا معاشی بوجھ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اس پر تشویش ہے۔