اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی استحکام اور زمینی صورتحال

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں حالیہ بہتری اور معاشی آؤٹ لک کو مستحکم قرار دینا میکرو اکانومی کی سطح پر مثبت تاثرات پیدا کرتا ہے۔ موڈیز کی اسسٹنٹ نائب صدر گریس لِم نے پاکستان کی معیشت کو عالمی اور علاقائی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے بہتر پوزیشن میں قرار د یتے ہوئے کہا کہ2022ء کے عالمی تیل بحران کے مقابلے میں پاکستان کی معیشت مضبوط ہوئی ہے اور آبنائے ہرمز بحران کا پاکستان پر ممکنہ اثر نسبتاً کم ہو گا۔موڈیز کے مطابق پاکستان نے گزشتہ دو برس میں معاشی استحکام اور پائیداری حاصل کی اور مختلف چیلنجز کا سامنا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا ۔ معاشی گنجائش میں اضافہ‘ افراطِ زر میں کمی‘ زرمبادلہ کے ذخائر کا استحکام ایسے عوامل ہیں جنہوں نے معیشت کو نسبتاً محفوظ سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے یہ تاثرات میکرو اکنامک بنیادوں پر تو معاشی بحالی اور استحکام کی نوید سناتے ہیں مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ملکی معیشت تاحال گہری سٹرکچرل کمزوریوں کی لپیٹ میں ہے‘ جن کا مداوا کیے بغیر طویل مدتی معاشی استحکام ممکن نہیں۔

میکرو اشاریوں میں نظر آنے والی بہتری کا عمیق جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عبوری استحکام پیداواری صلاحیت میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ بنیادی طور پر قرضوں کی مینجمنٹ کا مرہونِ منت ہے۔ رواں سال اگست میں پانچ ارب ڈالر کا سعودی قرض تین سال کیلئے رول اوور ہونے‘ مئی میں پانڈا بانڈز اور رواں ماہ یورو بانڈز کے اجرا سے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم اور قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ کچھ کم ہوا ہے‘ لیکن معیشت کے بنیادی مسائل اب بھی اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ملکی برآمدات کئی برسوں سے30سے 35ارب ڈالر تک محدود ہیں اور مینو فیکچرنگ کا شعبہ اس رفتار سے ترقی نہیں کر پا رہا جو معیشت کو غیر ملکی قرضوں کی بیساکھیوں کے بغیر چلا سکے۔ مختصراً یہ کہ عبوری استحکام کے باوجود نچلی سطح پر بحران اپنی پوری شدت کیساتھ موجود ہے اور یہ صورتحال موجودہ معاشی گنجائش کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔ میکرو اور مائیکرو معاشی اشاریوں کے مابین پایا جانیوالا تضاد ایک نئے معاشی بحران کی بنیاد بن رہا ہے۔ مائیکرو اکانومی یعنی عام آدمی‘ چھوٹے تاجر اور نچلا و متوسط طبقہ معاشی استحکام کے اثرات سے یکسر محروم ہے۔ بھاری بھرکم یوٹیلیٹی بلز‘ ٹیکسوں کے بڑھتے حجم اور روزگار کے محدود مواقع نے سماجی سطح پر شدید اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔

میکرو سطح پر افراطِ زر کا سنگل ڈیجٹ میں آنا اپنی جگہ مگر بازار میں اشیائے خور ونوش کی قیمتیں اب بھی عام آدمی کی قوتِ خرید کا امتحان لے رہی ہیں۔دیگر معاشی اشاریے مثلاً پیداواری لاگت و منافع‘ طلب و رسد‘ خدمات اور اشیا کی قیمتیں اور اوسط اجرت وغیرہ‘ سب جمود یا تنزل کا شکار ہیں۔ اگر کہیں مثبت نمو کے آثار ہیں بھی تو نہایت محدود اور استثنائی حد تک۔ جب تک نچلی سطح پر کاروباری سرگرمیاں بحال نہیں ہوں گی اور عام آدمی کی آمدنی میں حقیقی اضافہ نہیں ہوتا‘بین الاقوامی ایجنسیوں کی ریٹنگز اور ملکی معیشت سے متعلق تاثرات عوام کیلئے بے معنی ہیں۔ موجودہ جیو پولیٹکل صورتحال کے تناظر میں عارضی معاشی بہتری کو برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ پائیدار معاشی استحکام کے حصول کا واحد راستہ یہی ہے کہ میکرو اور مائیکرو اکانومی‘ دونوں شعبوں کو ساتھ لے کر چلا جائے۔ حکومت کو اب اپنا رخ قرضوں اور ٹیکسوں کے طومار سے بدل کر حقیقی معاشی ترقی اور پیداواری صلاحیت میں اضافے کی طرف موڑنا ہوگا۔

طویل مدتی اور پائیدار معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب معاشی پالیسیاں صرف عالمی اداروں کو مطمئن نہ کریں بلکہ انکے مثبت اثرات عوامی زندگی میں بھی دکھائی دیں۔ جب تک عام پاکستانی معاشی طور پر مستحکم نہیں ہوتا معاشی استحکام کے دعوے ادھورے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں