اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ٹیکسوں کا غیر منصفانہ بوجھ

ملک عزیز کے ٹیکس نظام کی سب سے بڑی کمزوری کم ٹیکس وصولی نہیں بلکہ اس کا غیر متوازن بوجھ ہے۔ ایف بی آر کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی دو مہینوں میں تنخواہ دار طبقے سے 91 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا گیا‘ جبکہ اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے 28 ارب جبکہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز نے مجموعی طور پر محض 12 ارب روپے انکم ٹیکس جمع کرایا۔ یہ محض اعداد و شمار کا فرق نہیں بلکہ ہمارے ٹیکس نظام کے غیر منصفانہ ہونے کا بین ثبوت ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی آمدن دستاویزی ہونے کے باعث اس پر ٹیکس عائد کرنا نسبتاً آسان ہے جبکہ معیشت کے کئی دوسرے بڑے شعبے اب بھی اپنی حقیقی آمدن کے مقابلے میں محدود ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

نتیجہ یہ ہے کہ جو طبقہ پہلے ہی مہنگائی‘ بجلی‘ ایندھن اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ میں ہے‘ وہ قومی محصولات کا غیر معمولی بوجھ اٹھا رہا ہے۔ حکومت کی ٹیکس اصلاحات کا مقصد پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقات سے مزید ٹیکس وصول کرنا نہیں بلکہ ٹیکس بیس کو وسیع کرنا ہونا چاہیے۔ حکومت کو تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے ساتھ ساتھ رئیل اسٹیٹ‘ ریٹیل اور ہول سیل سمیت ان تمام شعبوں کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانا ہو گا جہاں آمدن اور ٹیکس ادائیگی کے درمیان واضح خلا موجود ہے۔ ڈیجیٹل لین دین‘ دستاویزی معیشت اور مؤثر نگرانی اس عمل کو سہل بنا سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں