مہنگائی اور حکومتی ذمہ داری
وفاقی ادارۂ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 10 ستمبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 14 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 8.62 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ایل پی جی کی قیمت میں 55 فیصد‘ ڈیزل 45 فیصد‘ پٹرول 40 فیصد‘ بجلی 25 فیصد‘ پیاز 125 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اعداد و شمار عام آدمی کی مسلسل سکڑتی ہوئی معاشی سکت کی عکاسی کرتے ہیں۔ بالخصوص رواں ہفتے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پے درپے اضافے نے مہنگائی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافے اور عوام کی سکڑتی قوتِ خرید کے پیشِ نظر خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی بطور خاص مشکل میں ہے۔

عالمی قیمتوں کا دباؤ اپنی جگہ‘ مقامی سطح پر غیر ضروری منافع خوری اور بے تحاشا ٹیکس عوام کی مشکلات کو کئی گنا بڑھا رہے ہیں۔ مہنگائی کا مستقل حل طویل مدتی بنیادوں پر عوام کی آمدن اور معاشی سکت میں اضافہ‘ روزگار کے مواقع پیدا کرنا‘ پیداواری لاگت کم کرنا اور بالخصوص غیر ضروری ٹیکسوں کا بوجھ گھٹانا ہے۔ حکومت کو ایسی معاشی پالیسی درکار ہے جس میں مالیاتی استحکام کے ساتھ عوام کی قوتِ خرید کا تحفظ بھی بنیادی ترجیح ہو۔ معاشی حالات کا سارا بوجھ صارف پر منتقل کرنے اور عوام کی برداشت کی آخری حد آنے سے پیشتر حکومت کو اپنی ذمہ داری کا ادراک کرنا اور اس بوجھ کا مناسب حصہ خود بھی اٹھانا چاہیے۔