اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

نئے صوبے، عوامی مطالبہ

ملک میں بہتر گورننس اور شہری مسائل کے حل کے لیے نئے صوبوں کا قیام عوام کی نظر میں ناگزیر تقاضا ہے۔ حال ہی میں ایک سروے کے نتائج نئے صوبوں کے لیے عوامی حمایت کو واضح طور پر پیش کرتے ہیں‘ جن کے مطابق 75.5 فیصد رائے دہندگان نے نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کی جبکہ 72 فیصد سے زائد رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ نئے صوبے عوامی مسائل کے حل کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ رائے عامہ کا یہ جائزہ نئے صوبوں کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگرچہ یہ تاثر پہلے سے موجود تھا کہ عوام نئے صوبے چاہتے ہیں‘ اور اس کے حق میں مؤثر دلائل موجود تھے۔ ماضی میں پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض حصوں میں یہ مطالبہ سامنے آتا رہا ہے‘ تاہم ماضی کے مقابلے میں آج عوامی رائے میں جو بڑی تبدیلی نظر آتی ہے وہ لسانی یا نسلی بنیاد پر الگ صوبے کے مطالبے کے بجائے انتظامی اور عوامی مسائل کے حل اور بہتر حکمرانی کی غرض سے نئے صوبوں کی تشکیل کا مطالبہ ہے۔ عوامی سطح پر یہ آرا سیاسی جماعتوں کے لیے غور طلب ہونی چاہئیں۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں نئے انتظامی یونٹس کی تشکیل کے معاملے پر گومگو کی کیفیت میں نظر آتی ہیں۔

اس کے باوجود کہ متعدد سیاسی رہنما نئے صوبوں کی حمایت میں بیانات دے چکے ہیں مگر جماعتوں کی سطح پر اس معاملے میں خاموشی ہے جبکہ سندھ میں پیپلز پارٹی اس مطالبے کے خلاف خم ٹھونک کر کھڑی ہے۔ انتظامی بنیادوں پر چھوٹے صوبائی یونٹس کے معاملے میں سیاسی حلقوں کی ہچکچاہٹ کی کوئی معقول وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ اس معاملے میں عوامی منشا کو دیکھا جائے تو سیاسی جماعتوں کے لیے مناسب یہ ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کر کے عوام کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنائیں اور صحیح معنوں میں عوامی جمہوری سیاست کا ثبوت دیں۔ سیاسی جماعتیں اگر واقعتاً جمہوری سوچ کی حامل ہوں تو عوامی مطالبات کو وزن دیتی ہیں اور اس طرح عوامی حمایت کی حقدار ٹھہرتی ہیں۔ یہی تعلق سیاسی جماعتوں کا سب سے اہم اثاثہ ثابت ہوتا ہے۔ نئے صوبوں کا مطالبہ ملکِ عزیز میں سیاسی جماعتوں کے لیے نادر موقع ہے خود کو عوامی جمہوری روایتوں کا پاسدار ثابت کرنے کا۔ اس حال میں جبکہ عوام کی بھاری اکثریت انتظا می بنیادوں پر صوبوں کے حق میں کھڑی ہے‘ سیاسی جماعتیں جرأت مندانہ قدم اٹھا کر عوام کے ساتھ کھڑی نہ ہوں گی تو اندیشہ ہے کہ اپنے لیے حمایت اور تعلق کا ایک بڑا موقع کھو بیٹھیں گی۔ سیاسی جماعتوں کو یہ مان کر چلنا ہو گا کہ آج کا نوجوان جسے عرفِ عام میں جین زی کہتے ہیں‘ اپنے سے پہلے والی نسلوں سے ذہنی اور نفسیاتی طور پر بہت مختلف ہے۔ ان نوجوانوں نے آئی ٹی اور ذرائع ابلاغ کے جدید وسائل کے ساتھ دنیا دیکھی ہے‘ ان کی اپنی محرومیاں انہیں تلخ بناتی ہیں اور ہدفِ تنقید سیاسی طبقات ہیں۔

نوجوانوں کی یہ نسل‘ اس سے قطع نظر کہ وہ شہروں میں ہے یا دیہات میں‘ تعلیم یافتہ ہے یا نیم خواندہ‘ اپنے مسائل کی تشریح کم و بیش ایک ہی طرح کرتی ہے۔ یہ نوجوان ملکی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ہیں اور اس لحاظ سے بہت بڑا ووٹ بینک۔ مگر سیاسی جماعتوں کے لیے ان کی حمایت حاصل کرنا محض نعروں‘ تقریروں‘ وعدوں اور ماضی کے حکمرانوں پر تنقید سے ممکن نہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ سیاسی جماعتوں کی قربت کا سیدھا راستہ یہ ہے کہ ان کے حقیقی مسائل کو حل کرنے میں مزید تاخیر نہ کی جائے‘ انہیں قومی معاملات اور فیصلوں میں اہمیت دی جائے اور سیاسی قیادت میں ان کی شمولیت یقینی بنائی جائے۔ سیاسی جماعتوں نے ماضی میں بنیادی حکومتی نظام کو اہمیت نہ دے کر ایک غلطی کی‘ اب نئے  صوبوں کے قیام کی راہ میں رکاوٹیں ڈال کر دوسری غلطی کا ارتکاب نہ کریں۔ نئے صوبے صرف نعرہ نہیں حقیقی عوامی مطالبہ بن چکے ہیں‘ اس معاملے کو اسی طرح سمجھنا ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں