موسمی فلو یا کورونا؟
لاہور کے چھ سرکاری ہسپتالوں میں ایک ہی دن فلو‘ چیسٹ انفیکشن اور کورونا جیسی علامات کیساتھ دو ہزار سے زائد مریضوں کی آمد صحتِ عامہ کے حوالے سے غیرمعمولی صورتحال کی نشاندہی کرتی ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ ایسے مریضوں کی کورونا ٹیسٹنگ کے دوران مثبت کیسز بھی سامنے آ رہے ہیں۔ اگرچہ محض ان اعدادوشمار کی بنیاد پر کسی بڑے وبائی بحران کا اعلان نہیں کیا جا سکتا تاہم یہ صورتحال بروقت احتیاط اور پیشگی تیاری کی متقاضی ضرور ہے۔حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں فلو اور سانس کی بیماریوں کیلئے علیحدہ سکریننگ اور ریپڈ ٹیسٹنگ کاؤنٹرز مکمل استعداد کیساتھ فعال کیے جائیں تاکہ مریض کو بروقت معلوم ہو سکے کہ اسے کورونا ہے‘ انفلوئنزا ہے یا کوئی دوسری سانس کی بیماری۔

اس خصوصی انتظام سے مریض کا علاج زیادہ درست ہو گا اور دوسرے مریضوں اور طبی عملے میں منتقلی کا خطرہ بھی کم کیا جا سکے گا۔ دوسرا سرکاری ہسپتالوں سے کورونا کے مشتبہ اور مثبت کیسوں کے موصول ہونیوالے اعدادوشمار کا مرکزی سطح پر تجزیہ کیا جائے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مریضوں کی تعداد کس رفتار سے بڑھ رہی‘ کون سے علاقے زیادہ متاثر ہیں اور بیماری کی شدت کیا ہے۔ بروقت ٹیسٹنگ‘ مسلسل نگرانی‘ مناسب طبی وسائل اور عوامی رہنمائی کے ذریعے موجودہ صورتحال کو بڑے صحتِ عامہ کے بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔