سیاسی تنائو اور امنِ عامہ کا مسئلہ
خیبر پختونخوا میں بڑھتا ہوا سیاسی تناؤ صوبے کے انتظامی معاملات اور امن و امان کی صورتحال پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ملک کا شمال مغربی صوبہ سکیورٹی کے شدید چیلنجز سے نبرد آزما ہے‘ سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست نے گورننس کی ترجیحات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ کسی بھی حکومت کیلئے عوام کے جان و مال کا تحفظ اس کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کیلئے مضبوط انتظامی گرفت اور مسلسل توجہ درکار ہوتی ہے۔ تاہم رواں سال خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات انتظامی ذمہ داریوں سے غفلت کی طرف اشارہ کر تے ہیں۔ وفاقی حکومت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال یکم جنوری سے اب تک صوبے میں 680 دہشت گردی کے حملے ہو چکے ہیں جو گزشتہ سال کے دوران اسی مدت میں ہونے والے 508 حملوں سے 33.9 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اعدد و شمار واضح کرتے ہیں کہ شرپسند عناصر صوبے کے امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے مسلسل سرگرم ہیں۔ ان حملوں کا سب سے بڑا نشانہ ہماری فرنٹ لائن فورسز بن رہی ہیں۔ رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران خیبر پختونخوا میں 122 پولیس اہلکار دہشت گردی کے سبب شہید ہو چکے ہیں۔ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ تعداد 63تھی۔

یعنی پولیس اہلکاروں کی شہادتوں میں 93.7 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ غیر معمولی جانی نقصان جہاں صوبے کے امنِ عامہ کو لاحق خطرات کی نشاندہی کر رہا ہے وہیں افسوسناک امر یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جس سیاسی پشت پناہی‘ توجہ اور یکسوئی کی ضرورت ہے وہ سیاسی تناؤ کی نذر ہو رہی ہے۔ جو صوبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے اس عفریت سے نبرد آزما ہے‘ وہاں صوبائی ایپکس کمیٹی کا پہلا اجلاس وزیراعلیٰ کے عہدہ سنبھالنے کے 112 دن بعد طلب کیا گیا۔ صوبے کی انتظامی نگرانی‘ شہریوں کو ریلیف فراہم کرنا اور امن عامہ کو بہتر بنانا صوبائی حکومت کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے مگر سکیورٹی کے اس قدر سنگین حالات میں بھی صوبائی قیادت کی توجہ انتظامی معاملات سے زیادہ سیاسی معاملات اور وفاق کے ساتھ جاری محاذ آرائی پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ جب صوبے کی اعلیٰ انتظامی قیادت کا بیشتر وقت اور توانائیاں سیاسی حکمت عملی میں صرف ہوں گی تو امن و امان کی مانیٹرنگ اور سرکاری اداروں کی کارکردگی کے جائزے کے امور کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ اس وقت پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے نہ صرف حکومت کی بھرپور توجہ اور سٹرٹیجک رہنمائی کی ضرورت ہے بلکہ فنڈز اور جدید حربی آلات بھی درکار ہیں۔
اگرچہ وفاق کی جانب سے صوبائی حکومت کو دانستہ بدانتظامی کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے مگر سیاسی الزامات سے ہٹ کر اگر خالصتاً انتظامی نظر سے دیکھا جائے تو یہ بات عیاں ہے کہ اس وقت خیبر پختونخوا کو فعال اور بھرپور انتظامی توجہ کی ضرورت ہے۔ سکیورٹی کے لحاظ سے حساس (ضم شدہ قبائلی اور سرحدی) اضلاع میں انتظامی خلا کو پُر کرنا‘ پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعدادِ کار کو بڑھانا اور انٹیلی جنس شیئرنگ کو مضبوط بنانا ایسے کام ہیں جو صوبائی حکومت کی بھرپور توجہ کے متقاضی ہیں۔ دہشت گردی ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے وفاقی اداروں اور صوبائی حکومت کے درمیان مثالی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ جب دونوں اطراف سیاسی تناؤ پایا جاتا ہو تو انتظامی اور سکیورٹی امور میں پیشہ ورانہ تعاون کی فضا متاثر ہونے کا خدشہ بعید از قیاس نہیں۔ ہمارا دشمن اسی خلا کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی آئینی مہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرے۔ سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ثمرآور اور صوبے کو دوبارہ امن کا گہوارہ بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اس وقت سیاسی مفادات کو تیاگ کر تمام تر توجہ گورننس اور امنِ عامہ پر مرکوز کی جائے۔