اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

زیر زمین پانی کی قلت

ایک آبی تحقیقاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ آٹھ برس کے دوران ملک میں زیر زمین پانی کی مقدار میں تقریباً چھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں تقریباً 23فیصد اور خیبر پختونخوا میں تقریباً 33 فیصد رقبے کے نیچے پانی کی بوند تک نہیں بچی اور اگر اب بھی ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو پنجاب کے تقریباً 36فیصد اور خیبرپختونخوا کے 42فیصد مزید رقبے سے زیر زمین پانی جلد ختم ہونے کا خدشہ ہے۔یہ رپورٹ متعلقہ حکام اور عوام دونوں کیلئے ہوشربا ہونی چاہیے۔ ملک میں زیر زمین پانی کا سب سے زیادہ استعمال زراعت میں ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق آبپاشی کے ناقص نظام اور شہری علاقوں میں پانی کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے ملک کا 60 فیصد پانی ضائع ہو رہا ہے۔

ہمارا یہ طرزِ عمل آنیوالے وقت میں پانی کے خوفناک بحران کا باعث بن سکتا ہے۔ اس ممکنہ بحران سے بچنے کیلئے آبپاشی کے روایتی طریقہ کار کو ترک کرکے ڈرپ ایری گیشن جیسا جدید طریقہ اپنانا ہو گا۔ اسی طرح گھروں میں بھی پانی کی ایک ایک بوند کو سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہوگا۔ایک رپورٹ کے مطابق اگر ہر سال ہونے والی بارش کا 25فیصد پانی بھی ریجارج ایبل کنوؤں کے ذریعے زمین میں بھیج دیا جائے تو زیر زمین پانی کی سطح نمایاں طور پر بہتر ہو سکتی ہے‘ حکومت کو اس جانب بھی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں