علاقائی استحکام کا راستہ
’پاکستان امن، مذاکرات اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے اور افغانستان کیساتھ باہمی طور پر قابلِ قبول اور دوستانہ حل کیلئے مذاکرات کا حامی ہے‘۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کا یہ بیان پاک افغان تعلقات کے موجودہ تناظر میں پاکستان کی بنیادی خارجہ پالیسی کا واضح عکاس ہے۔ اسلام آباد میں ’’افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیشرفت‘‘ کے موضوع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کسی قسم کے تصادم کا خواہاں نہیں بلکہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات اور باہمی افہام و تفہیم کو پائیدار راستہ سمجھتا ہے۔پاک افغان تعلقات ایک اہم اور حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں ایسے میں وزیر اطلاعات کا یہ بیان ہمسایہ ملک کی جانب شاخِ زیتون بڑھانے کے مترادف ہے۔یہ پیغام اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان اختلافات کے باوجود مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے اور خطے کے وسیع تر مفاد میں پُرامن حل کی کوشش جاری رکھنے پر یقین رکھتا ہے۔پاک افغان تعلقات کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ کابل کیساتھ خوشگوار تعلقات اور باہمی مسائل کے حل کیلئے سفارتی ذرائع کو ترجیح دی ہے۔ نہ صرف امریکہ کے انخلا کے دوحہ معاہدے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا بلکہ کابل کی نئی انتظامیہ کیساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی۔

بعد ازاں جو مسائل پیدا ہوئے اور پاکستان کو دہشتگردی کے جس سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑا‘ اس حوالے سے بھی ہر ممکن حد تک سفارتی روابط سے کام لیا گیا۔ متعدد اعلیٰ سطحی وفود یہاں سے افغانستان گئے مگر عملی طور پر کوئی پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی‘ نتیجتاً بداعتمادی کی خلیج مزید گہری ہوتی چلی گئی۔گزشتہ برس اکتوبر میں جھڑپوں اور بعد ازاں دوحہ اور استنبول مذاکرات میں بھی درپیش باہمی مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کی گئی مگر افغان عبوری حکومت پاکستان کے تحفظات پر کسی قسم کی تحریری یقین دہانی سے گریزاں رہی اور اسی غیر سنجیدہ رویے کے سبب دوطرفہ تعلقات تعطل کا شکار ہو گئے۔ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے‘ اگر ایک فریق مسلسل امن کا خواہشمند ہو اور دوسری جانب سے شرپسندی برقرار رہے تو سفارتی کوششیں بارآور نہیں ہو سکتیں۔ بدلتے عالمی منظرنامے میں پورے خطے کے اندر علاقائی امن اور تجارت کے فروغ کی خواہش موجود ہے۔
وسطی ایشیا کی ریاستیں اور خود افغانستان بھی خواہاں ہے کہ اسے سمندر تک رسائی ملے۔ اگر افغانستان پائیدار امن کی یقین دہانی کرائے تو پورے خطے میں معاشی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔ وسطی ایشیا اور کابل سے لے کر کراچی اور گوادر تک ایک منافع بخش تجارتی روٹ قائم ہو سکتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ جب تک سکیورٹی کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے اور سرحدی دراندازی بند نہیں ہوتی‘ اس وقت تک ایسے معاشی اور تجارتی منصوبوں پر عملدرآمد ناممکن ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے افغان عبوری حکومت کو نہایت صائب اور حقیقت پسندانہ حل کی جانب متوجہ کیاہے کہ پائیدار امن اور ترقی کیلئے افغانستان کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے باہر نکلنا ہوگا۔ افغان حکومت گزشتہ پانچ برس کے دوران انتہا پسندی اور عالمی تنہائی کے نتائج دیکھ چکی‘ دنیا سے کٹ کر‘ انتہا پسند گروہوں کو پناہ دے کر اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کر کے کوئی بھی ملک معاشی طور پر مستحکم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان آج بھی افغانستان کیساتھ بیٹھنے اور تصفیہ طلب امور پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے مگر اس کیلئے افغان قیادت کو شدت پسندانہ ذہنیت کو ترک کرنا اور اپنی سر زمین کو پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکنا ہو گا۔پاکستان کی یہ مخلصانہ پیشکش کابل حکومت سے سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے۔ ایشیا کے جنوبی اور وسطی حصوں کو جوڑنے اور روشن و خوشحال مستقبل کا یہی واحد راستہ ہے۔ بصورتِ دیگر بداعتمادی اور انتہا پسندی پورے خطے کو مزید بدامنی کی طرف دھکیلتی رہے گی۔