پولیو کی صورتحال
پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کی طرف سے خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے نئے پولیو کیس کی تصدیق کی گئی ہے‘ جس کے بعد رواں سال اب تک ملک بھر سے مجموعی طور پر رپورٹ شدہ پولیو کیسز کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ان پانچ میں سے تین پولیو کیسزضلع بنوں سے رپورٹ ہوئے ہیں۔رواں سال رپورٹ ہونے والے نئے پولیو کیسز کے بعد نہ صرف پولیو فری پاکستان کی منزل ایک مرتبہ پھر نظروں سے اوجھل ہو تی محسوس ہوتی ہے بلکہ یہ کیس پولیو کے حوالے سے ہائی ویلیو ٹارگٹڈ ایریاز کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق بنوں خیبرپختونخوا کے پولیو کے سب سے زیادہ سے متاثرہ سات جنوبی اضلاع میں شامل ہے۔ گزشتہ برس بھی ان اضلاع سے 17پولیو کیس رپورٹ ہوئے تھے۔ ملک سے پولیو کے خاتمے کا طے شدہ ہدف حاصل کرنے کیلئے متعلقہ حکام کو ان اضلاع پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

پاکستان تین دہائیوں سے پولیو کے خلاف لڑ رہا ہے مگر باقاعدگی سے پولیو مہمات کے باوجود اگر وطنِ عزیز پولیو سے پاک نہیں ہو سکا تو ان اسباب کو جاننے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے ابھی تک ملک سے پولیو وائرس کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ ایمرجنسی آپریشن سنٹر بلوچستان اور قومی ادارۂ صحت بچوں کی پولیو ویکسی نیشن میں ہونے والی کوتاہیوں کو اس کی بڑی وجہ قرار دے چکے ہیں۔ لہٰذا حکام کو ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے پولیو ویکسی نیشن کو مزید بہتر بنانا چاہیے۔ ہر بچے کو پولیو ویکسین دیے بغیر ملک پولیو فری نہیں ہو سکتا۔