اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی‘ تخمینہ اور حقیقت

وفاقی ادارۂ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں سالانہ مہنگائی کی شرح 11.15 فیصد سے کم ہو کر 10.26 فیصد رہ گئی‘ مگر زمینی صورتحال مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ ستمبر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کی شرح نسبتاً کم ضرور ہوئی لیکن مذکورہ رپورٹ کے مطابق انکی قیمتوں میں ماہانہ بنیادوں پر 1.27 فیصد اضافہ بھی ہوا ہے۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مال برداری اور پیداواری لاگت میں اضافہ‘ اور سب سے بڑھ کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی آڑ میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کا دھندہ ہے۔ ان حالات میں جبکہ مہنگائی میں متواتر اضافہ جاری ہے‘ ضلعی انتظامیہ‘ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔

متعلقہ ذمہ داران کو چاہیے کہ سرکاری نرخوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر بازاروں کی نگرانی کریں‘ سپلائی چین کے ہر مرحلے پر قیمت اور منافع کا ریکارڈ رکھیں اور خلاف ورزی پر مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔ حکومت کی توجہ صرف مہنگائی کے اعدادو شمار میں ہونے والے اتار چڑھاؤ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ اس کا اصل امتحان عام آدمی کی قوتِ خرید کو بحال کرنا ہے۔ جب تک شہری کو بازار میں سرکاری نرخ پر اشیائے ضروریہ دستیاب نہیں ہوتیں‘ روزگار اور آمدن میں حقیقی اضافہ نہیں ہوتا اور توانائی کی لاگت قابو میں نہیں آتی‘ تب تک اعدادوشمار کی بہتری کے اثرات عوام کے باورچی خانے تک نہیں پہنچ سکتے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں