اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

فراڈ کے مراکز

ایک خبر کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے لاہور میں سات غیر قانونی کال سنٹرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 21 غیر ملکیوں سمیت 281 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان مراکز سے آن لائن فراڈ‘ مالی معلومات اور شناختی کوائف کی چوری‘ ہنی ٹریپنگ اور دیگر سائبر جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا تھا۔ ملک میں سائبر جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات سنجیدہ مسئلہ بن چکے ہیں۔ ان کال سنٹرز سے صرف پاکستانی شہریوں کو ہی نشانہ نہیں بنایا جاتا بلکہ غیر ملکی افراد بھی ان کی دھوکہ دہی کا شکار ہوتے ہیں جس سے ملک کی بین الاقوامی ساکھ اور ڈیجیٹل معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اس لیے حکومت کوشہر شہر پھیلے فراڈ کے ان مراکز کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن کرنا چاہیے‘اوراس کا دائرہ کار ان مراکز کے اصل مالکان‘ سرپرستوں اور مالی معاونین تک وسیع کرنا چاہیے تاکہ جرائم کے پورے نیٹ ورک کو توڑا جا سکے۔ اس مقصد کیلئے این سی سی آئی اے‘ پولیس‘ بینکوں‘ ٹیلی کام کمپنیوں اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔ حکومت کو یہ امر بھی یقینی بنانا چاہیے کہ گرفتار ملزمان کے خلاف تحقیقات شفاف اور مؤثر انداز میں مکمل ہوں‘ مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں