اشیائے ضروریہ مزید مہنگی
وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق آٹھ اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران 20 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہوگئیں جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح تقریباً 12فیصد تک پہنچ گئی۔ رپورٹ کے مطابق پیاز کی قیمت میں سالانہ بنیادوں پر 100فیصد‘ ایل پی جی 68‘ بجلی 58‘ پٹرول 47‘ ڈیزل 42اور آٹے کی قیمت میں 32فیصد اضافہ ہوا۔ ایک ہفتے کے دوران ملک کے مختلف شہروں میں بیس کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں تقریباً 400 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کیلئے حکومتی کوششوں کو مزید مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے جمعہ کے روز نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس میں اشیائے ضروریہ‘ بالخصوص آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صوبائی اور ضلعی انتظامیہ کو رسد‘ منڈیوں میں اشیا کی آمد‘ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی سخت نگرانی کی ہدایات دی ہیں۔

تاہم اصل کام ان فیصلوں پر عملدرآمد کرانا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ آٹے سمیت دیگر بنیادی اشیا کی طلب و رسد کا درست تخمینہ لگا کر ان کی مسلسل دستیابی یقینی بنائے تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے قیمتیں بڑھانے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائی محض چھوٹے دکانداروں تک محدود رکھنے کے بجائے پوری سپلائی چین میں کی جائے۔ ان وقتی انتظامی کارروائیوں کے ساتھ پیداواری لاگت میں کمی‘ منڈیوں میں مسابقت اور عوام کی قوتِ خرید بڑھانا بھی ضروری ہے۔