ٹرین حادثہ
گزشتہ روز کراچی سے پشاور جانے والی رحمان بابا ایکسپریس کی ملتان کے قریب 15 میں سے 14 بوگیاں پٹری سے اُتر گئیں‘ اس حادثے میں چھ مسافر جاں بحق اور تقریباً 40زخمی ہو گئے۔ ملک میں تقریباً ہر ہفتے کوئی نہ کوئی ریل گاڑی کسی حادثے کا شکار ہو جاتی ہے۔ وزارتِ ریلوے کی جانب سے رواں سال مئی میں قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2021ء سے 2025ء کے دوران ملک میں 448 ریلوے حادثات پیش آئے‘ جن میں 169 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ وزارت کے زیر انتظام ریلوے ٹریک کا تقریباً 67 فیصد حصہ اپنی طبعی عمر پوری کر چکا ہے۔ رواں سال اب تک ریل گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کے 50سے زائد واقعات ہو چکے ہیں۔ یہ صورتحال برسوں کی غفلت‘ ناقص منصوبہ بندی اور بروقت مرمت سے چشم پوشی کا نتیجہ ہے۔

ریلوے سستے‘ محفوظ اور مؤثر سفر کے ساتھ معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ ذریعۂ آمدورفت ایندھن کی بچت‘ سڑکوں پر دباؤ میں کمی اور عوام کو سستا سفر فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے مگر اس کیلئے محض نئے منصوبوں کے اعلانات نہیں بلکہ فنڈز کی بروقت فراہمی‘ پٹری کی ہنگامی مرمت‘ جدید سگنلز‘ بوگیوں اور انجنوں کی باقاعدہ جانچ اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل درآمد درکار ہے۔ حکومت کو ایم ایل ون منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کیلئے بھی عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔