غربت کا بڑھتادائرہ
یو این ڈی پی کے کثیر جہتی غربت انڈیکس کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی کثیر جہتی غربت کا شکار ہے جبکہ بنگلہ دیش میں یہ شرح تقریباً 15 اور بھارت میں 16 فیصد ہے۔حکمرانوں کیلئے یہ صورتحال لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ لگ بھگ ساڑھے نو کروڑ پاکستانی کثیر الجہت غربت کا شکار ہیں۔ کثیر جہتی غربت سے مراد محض آمدن کی کمی نہیں بلکہ خوراک‘ صاف پانی‘ صحت‘ تعلیم‘رہائش اور زندگی کی دیگر بنیادی سہولتوں کی عدم دستیابی ہے۔ پاکستان اکنامک سروے 2026ء کے مطابق 2018ء سے 2025ء تک ملک میں غربت کی شرح میں سات فیصد اضافہ ہوا۔ مسلسل مہنگائی بالخصوص توانائی کے بڑھتے اخراجات‘ قوتِ خرید میں کمی‘ معاشی سست روی اور روزگار کے محدود مواقع غربت میں اضافے کے بنیادی اسباب ہیں لیکن تشویشناک امر یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے تخفیف غربت کے لیے اقدامات نظر نہیں آتے۔

حکومت کو غربت کے خاتمے کے لیے محض امدادی رقوم اور عارضی سبسڈی جیسے اقدامات تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ تخفیفِ غربت کا مستقل حل عوام کی معاشی سکت مضبوط کرنا اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہے۔ ایسا روزگار جو مہنگائی کے مقابلے میں مناسب آمدن فراہم کرے‘ خاندانوں کو امداد کا محتاج رہنے کے بجائے خود کفالت کی طرف لے جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے صنعت‘ زراعت‘ برآمدات اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو وسعت دینا ہو گی‘ اور نوجوانوں کو مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر سکھانا ہو گا۔