اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بڑھتی آبادی اور مفلوج انتظامی ڈھانچہ

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں آبادی میں تیز رفتار اضافہ صحت‘ تعلیم اور روزگار کیلئے بڑا چیلنج ہے۔ عالمی بینک کے زیر اہتمام ایک کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کو تیزی سے بڑھتی آبادی اور اسکے اثرات سے نمٹنے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے۔ وفاقی وزیر خزانہ نے ملک کے سب سے سنگین مگر مسلسل نظر انداز کیے جانے والے مسئلے پر توجہ مبذول کرائی ہے۔ 2023ء کی ڈیجیٹل مردم شماری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے جو نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا کے کئی خطوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر سال 60 لاکھ سے زائد افراد کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب ریاست موجودہ 25کروڑ سے زائد شہریوں کو پینے کا صاف پانی‘ تعلیم‘ صحت اور روزگار کی سہولتیں بھی فراہم کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے‘ ہر سال 60 لاکھ سے زائد افراد کا یہ اضافی بوجھ کب تک اٹھایا جا سکتا ہے؟ معاشی ماہرین کے مطابق آبادی کی موجودہ شرحِ نمو کا مقابلہ کرنے اور ملک کو معاشی مسائل کی دلدل سے نکالنے کیلئے ملکی جی ڈی پی کی سالانہ شرحِ نمو کم از کم چھ سے سات فیصد ہونی چاہیے جبکہ اس وقت ہماری معاشی ترقی کی رفتار بمشکل 3.5 سے چار فیصد تک ہے۔

جب تک معیشت کی رفتار آبادی کی رفتار سے دو یا تین گنا زیادہ نہیں ہو گی تب تک غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کے حالاتِ زندگی کو بدلنا ممکن نہیں۔ اس پورے بحران کا ایک تشویشناک پہلو ملک کا وہ فرسودہ اور مفلوج انتظامی ڈھانچہ ہے جو ساڑھے سات عشرے قبل وجود میں لایا گیا تھا۔ 1951ء میں جب چار صوبوں پر مشتمل انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا گیا تھا‘ تب ملک (مغربی پاکستان) کی آبادی تین کروڑ 37لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ گزشتہ 75سال میں آبادی میں سات گنا سے زائد اضافہ ہو چکا مگر انتظامی ڈھانچہ جوں کا توں ہے‘ نتیجتاً صوبوں کے درمیان معاشی‘ مالیاتی اور آبادیاتی تفاوت کم ہونے کے بجائے اب ایک گہری خلیج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ آج پنجاب کی آبادی تقریباً پونے تیرہ کروڑ ہے‘ یعنی ملک کی نصف آبادی صرف ایک صوبے میں مقیم ہے۔ اسکے برعکس‘ بلوچستان‘ جس کا رقبہ پاکستان کے کُل رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے‘ وہاں کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے بھی کم ہے۔ رقبے اور آبادی کا یہ شدید عدم توازن جہاں بڑے شہروں پر آبادی کے بوجھ کو بڑھا رہا ہے وہیں ان کے وسائل کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں ورلڈ اکنامک فورم نے اپنی حالیہ خصوصی رپورٹ میں پاکستان کے انتظامی ڈھانچے کو ناکام اور مفلوج قرار دیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق نائیجیریا‘ انڈونیشیا‘ کینیا اور برازیل جیسے ممالک نے بڑھتی ہوئی آبادی کو منظم کرنے کیلئے اپنے انتظامی نقشے تبدیل کیے اور صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا تاکہ اختیارات اور فنڈز نچلی سطح تک منتقل ہو سکیں۔

ہمارے ملک میں بھی کئی دردمند طبقات مسلسل اس مسئلے پر توجہ مبذول کرا رہے ہیں کہ ملک کی نئی انتظامی تقسیم‘ حقیقی مالیاتی خود مختاری اور ایک فعال و بااختیار لوکل گورنمنٹ سسٹم کے بغیر نہ تو آبادی پر قابو پانا ممکن ہے اور نہ ہی معاشی ترقی کی منازل طے کی جا سکتی ہیں۔ وزیر خزانہ کا اعتراف اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر قومی اتفاقِ رائے قائم کریں۔ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے جو صوبوں کو آبادی بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس کی جگہ کارکردگی اور آبادی کنٹرول کرنے پر مالی مراعات دینے کا نظام لانا ہوگا۔ مفلوج انتظامی ڈھانچے کی جگہ اب چھوٹے اور بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگر اب بھی تساہل برتا گیا تو آبادی کا بڑھتا بوجھ یہیں تک نہیں رکے گا بلکہ ہر گزرتے دن کیساتھ ملک کو معاشی طور پر مزید کھوکھلا کرتا اور سماجی طور پر ایک بے قابو ہجوم میں بدلتا جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں