ایمبولینس حادثہ
سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ایک ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے لگنے والی آگ سے دس افراد جاں بحق جبکہ تین شدید زخمی ہو گئے۔اس واقعے نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ کیا آکسیجن سلنڈر کی بروقت جانچ کی گئی تھی؟ کیا اسے سنبھالنے والا عملہ مطلوبہ تربیت رکھتا تھا؟ اور کیا ایمبولینس میں آتشزدگی سے بچاؤ کے ضروری انتظامات موجود تھے؟ یہ سانحہ ملک بھر میں ایمبولینس سروس کے مجموعی معیار کا جائزہ لینے کی ضرورت بھی اجاگر کرتا ہے۔ بالخصوص سرکاری ہسپتالوں کی ایمبولینسوں میں گاڑیوں کی فٹنس‘ طبی آلات کی دستیابی‘ بروقت مرمت اور تربیت یافتہ عملے کی تعیناتی جیسے معاملات خصوصی توجہ چاہتے ہیں۔

نجی شعبے میں بھی بعض ایمبولینسیں محض مریضوں کی منتقلی تک محدود رہتی ہیں‘ جہاں دورانِ سفر طبی نگرانی اور ہنگامی امداد کی مناسب سہولت میسر نہیں ہوتی۔ ایمبولینس محض ایک گاڑی نہیں بلکہ ہنگامی طبی نگہداشت کا ابتدائی مرکز ہوتی ہے۔ اس میں نہ صرف محفوظ آکسیجن نظام‘ ابتدائی طبی امداد کا سامان اور مریضوں کو درکار ضروری طبی آلات ہونے چاہئیں بلکہ ان آلات کو درست طریقے سے استعمال کرنے کیلئے تربیت یافتہ اہلکار کی موجودگی بھی ناگزیر ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے تمام سرکاری و نجی ایمبولینسوں میں عالمی سطح پر طے شدہ معیارات کی پابندی یقینی بنائیں۔