طاقتور پارلیمان اور سیاسی مفاہمت
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے تحریک انصاف کو پارلیمان میں سیاسی کردار ادا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پارلیمان طاقتور ہے تو ہم سب طاقتور ہیں۔ یہ موجودہ سیاسی و آئینی بحران کا وہ حل ہے جس کی طرف بڑھے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ ایسے وقت میں جب سیاست دھڑے بندی‘ محاذ آرائی اور عدم برداشت کا شکار نظر آتی ہے‘ اس گمبھیر ماحول میں پارلیمان کی بالادستی پر اصرار دراصل اُس جمہوری فلسفے کی یاددہانی ہے جس پر ملک کے سیاسی نظام کی بنیاد رکھی ہوئی ہے۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں تمام پیچیدہ مسائل کا حتمی‘ قانونی اور پائیدار حل صرف اور صرف عوامی نمائندوں کے سب سے معتبر ایوان یعنی پارلیمان کے اندر ہی نکالا جاتا ہے۔ ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی پارلیمان کو کمزور کیا گیا یا اسکے اختیارات کو پسِ پشت ڈال کر فیصلے ایوان سے باہر کیے گئے‘ جمہوری نظام اور ملکی سیاست کو سخت ٹھیس پہنچی۔ آج اگر پاکستان اقتصادی‘ سکیورٹی اور مختلف سیاسی بحرانوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے تو اس کی بڑی وجہ پارلیمان کو کمزور بنانے کا وہ رویہ ہے جو خود سیاستدانوں کا پیدا کردہ ہے۔ جب سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر قانون سازی اور بحث کیلئے ایوان کا رخ کرنے کے بجائے عدالتوں‘ سڑکوں یا دیگر حلقوں کی طرف دیکھنا شروع کر دیتی ہیں تو پارلیمان کی اہمیت خود بخود کم ہونے لگتی ہے۔

یہ ایک صائب مشورہ ہے کہ انتخابی اصلاحات سمیت تمام مسائل پر پارلیمان میں بیٹھ کر بہتری کی کوشش کی جائے۔ اگر اپوزیشن ملک میں حقیقی تبدیلی اور عوامی حقوق کی پاسداری چاہتی ہے تو اسے پارلیمانی کمیٹیوں کا حصہ بن کر اپنا مؤثر سیاسی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنی انا‘ ذاتی عناد اور وقتی سیاسی مفادات سے اوپر اٹھ کر‘ بامقصد مذاکرات کی طرف بڑھیں۔ جمہوریت تو نام ہی مکالمے اور سمجھوتے کا ہے۔ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی جمہوری نظام تب تک کامیابی سے نہیں چل سکتا جب تک حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعمیری بات چیت کے دروازے کھلے نہ ہوں۔ ہماری بدقسمتی کہ یہاں اقتدار میں آنے والی ہر جماعت اپوزیشن کو دیوار سے لگانے اور اپوزیشن حکومتوں کو گرانے کے مشن پر کاربند رہی۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ملکی جمہوریت کی بنیادیں کھودنے کا سبب بنا بلکہ معیشت و معاشرت کے بیشتر مسائل اسی سیاسی بحران کے پیداکردہ ہیں۔ اپوزیشن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں گرانے کی کوششیں درحقیقت ملکی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور سکیورٹی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
اس لیے احتجاجی سیاست کو پارلیمانی حدود کے اندر لا کر اس کے اثرات کو محدود بنانا چاہیے۔ معاشی استحکام ہو‘ مہنگائی کا مسئلہ ہو‘ دہشت گردی کا بڑھتا ہوا چیلنج ہو یا صوبائی خود مختاری اور وسائل کی تقسیم کا معاملہ‘ ان تمام سنجیدہ موضوعات پر طویل مدتی اور پائیدار پالیسیاں صرف پارلیمان کے اندر ہی بنائی جا سکتی ہیں۔ جب تک تمام سیاسی قوتیں ایک میز پر بیٹھ کر ملکی مفاد میں اکٹھی نہیں ہوتیں‘تب تک کوئی بھی حکومت ملکی مسائل کا پائیدار حل نہیں نکال سکتی۔ بیرونی سرمایہ کار اور عالمی ادارے اسی ملک پر اعتماد کرتے ہیں جہاں کی پارلیمان مضبوط ہو اور پالیسیوں میں تسلسل پایا جائے۔ سیاسی مسائل کو ہوا دے کر گروہی اور انفرادی مفادات تو حاصل کیے جا سکتے ہیں مگر اس سے ملک و قوم کا کوئی بھلا نہیں ہو سکتا۔ سیاسی حریفوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ سیاسی مسائل کی موجودہ دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ مذاکرات اور مفاہمت سے ہوکر جاتا ہے۔ اس سے جتنا بھی گریز کریں‘ یہ اتنی ہی بار اور اتنی ہی شدت کے ساتھ سامنے آئے گا۔ جب گھوم پھر کر اسی راستے پر آنا ہے تو ابھی سے کیوں نہیں؟ اگر حکومت اور اپوزیشن پارلیمان کو حقیقی معنوں میں قانون سازی اور سنجیدہ مکالمے کا مرکز بنا لیں تو اکثر قومی مسائل دنوں میں حل ہو سکتے ہیں۔