فضائی آلودگی کی معاشی قیمت
وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی کے باعث ملکی معیشت کو سالانہ جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے برابر معاشی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مالی سال 2025-26ء میں جی ڈی پی کا حجم تقریباً 126.9 ٹریلین روپے رہا‘ اس حساب سے فضائی آلودگی کا تخمینہ شدہ سالانہ معاشی نقصان 8200 ارب روپے سے تجاوز کر جاتا ہے۔ یہ حقیقت اس امر کی عکاس ہے کہ آلودہ فضا محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ملکی معیشت کیلئے بھی سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ اس موقع پر وفاقی وزیر نے صاف ہوا کے شعبے میں کام کرنے والے سٹارٹ اپس کی معاونت کیلئے ایک کروڑ ڈالر کا فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ یہ اقدام اپنی جگہ اہم لیکن اصل ضرورت ایسی ٹیکنالوجی کی ترویج کے ساتھ ساتھ آلودگی پیدا کرنے والے عوامل کا خاتمہ بھی ہے۔ ہوا صاف کرنے والے آلات مخصوص مقامات پر تو مددگار ثابت ہو سکتے ہیں لیکن کروڑوں شہریوں کو فضائی آلودگی سے پاک ماحول فراہم کرنے کا متبادل نہیں بن سکتا۔

ملک میں فضائی آلودگی کے بنیادی اسباب میں بے ہنگم ٹریفک‘صنعتی دھواں‘ ناقص ایندھن‘ فصلوں کی باقیات اور کچرا جلانا‘ تعمیراتی گردوغبار اور سڑکوں کی دھول وغیرہ شامل ہیں۔ جب تک آلودگی کے پیداواری اسباب پر قابو نہیں پایا جاتا‘ وقتی انتظامات یا نمائشی اقدامات سے نہ شہریوں کی صحت محفوظ بنائے جا سکتی ہے اور نہ ہی معیشت کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا ازالہ ممکن ہوسکتا ہے۔