آن لائن فراڈ
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے آن لائن انویسٹمنٹ کے نام پر دو ارب روپے کا بڑا مالی فراڈ بے نقاب کیا ہے۔ یہ گروہ فرضی خریداری اور سرمایہ کاری کے نام پر لوگوں کا پیسہ ہتھیاتا‘ شروع میں کچھ منافع دکھاتا اور پھر سب کچھ لے کر رفوچکر ہو جاتا۔ یہ واقعہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ملک میں ڈیجیٹل فراڈ کا دھندہ کس حد تک سرایت کر چکا ہے۔ اس وقت پاکستان میں رپورٹ ہونے والے سائبر کرائم کے تقریباً60 فیصد جرائم مالیاتی فراڈ سے متعلق ہیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق مالیاتی سائبر فراڈ کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو جی ڈی پی کے تقریباً 2.5 فیصد کے برابر نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ رقم آج کے حساب سے تین ہزار ارب سے زائد بنتی ہے۔

یہ شرح واضح کرتی ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل سکیورٹی اور پرائیویسی کے حوالے سے اب بھی بڑا خلا موجود ہے‘ جس کا یہ فراڈیے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ڈیجیٹل ناخواندگی کے علاوہ کم وقت میں زیادہ منافع کمانے کی حرص بھی ایسے گروہوں کا کام آسان کر دیتی ہے جو جعلی ایپس اور سوشل میڈیا کے ذریعے شہریوں کی جمع پونجی لوٹ رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر حکمت عملی وضع کی جائے۔ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مزید محفوظ بنانے کے ساتھ عوامی سطح پر آگاہی کی بھی اشد ضرورت ہے۔