سموگ کا مسئلہ
لاہور میں سموگ کا مسئلہ ایک بار پھر بے قابو ہو چکا ہے جس نے صوبائی دارالحکومت کو ایک گیس چیمبر میں تبدیل کر دیا ہے۔ شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 500 سے تجاوز کر کے انتہائی مضر سطح پر پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ روز علامہ اقبال ٹاؤن میں یہ سطح 912 تک ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد وشمار صرف فضائی آلودگی کی سنگینی کو ہی ظاہر نہیں کرتے بلکہ لاکھوں شہریوں کی صحت کیلئے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ اس وقت ہسپتال سانس‘ آنکھوں اور گلے کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں سے بھرے ہوئے ہیں‘ یعنی سموگ اب ایک سالانہ وبائی مرض کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ اگر اس کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو پنجاب سیکٹرل امیشن انوینٹری کی ایک رپورٹ کے مطابق فضائی آلودگی کا 39 فیصد اخراج ٹرانسپورٹ سے‘ 24 فیصد صنعت سے اور 16 فیصد توانائی سے ہوتا ہے۔ یعنی ٹریفک کا زہریلا دھواں اس کا سب سے بڑا سبب ہے اور سب سے کم توجہ بھی اسی پر دی جاتی ہے۔

دوسری طرف شہر بھر میں جگہ جگہ جاری طویل تعمیراتی منصوبوں نے بھرپور حصہ ڈالا ہے۔ کھدی ہوئی سڑکیں اور ان سے اُڑنے والا گرد وغبار فضا کو مزید آلودہ بنا رہا ہے۔ سموگ سے نمٹنے کیلئے دیر پا حکمت عملی اور مسلسل محنت کی ضرورت ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بنانا‘ تعمیراتی سائٹس پر دھول کے حوالے سے سخت قواعد و ضوابط اور صنعتوں میں ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کو اس مہم کا مستقل حصہ بنانا چاہیے۔ ماحولیاتی ایمرجنسی اب کوئی ہنگامی اقدام نہیں رہی بلکہ یہ ہماری مستقل ضرورت بن چکی ہے۔