ایران امریکہ کشیدگی‘ عالمی امن خطرے میں
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کشیدگی‘ عدم استحکام اور بحرانوں کی زد میں ہے‘ ایسے میں ایران پر ممکنہ امریکی جوہری حملے سے متعلق سامنے آنے والے دعوے عالمی امن کیلئے انتہائی تشویشناک ہیں۔ امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے امکان پر غور کر سکتے ہیں۔ اس نوعیت کے دعوے عالمی برادری کو سنجیدہ غور وفکر پر مجبور کرتے ہیں۔ ٹکر کارلسن کے بیان کے مطابق ایران میں پہاڑوں کے اندر واقع مبینہ جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کیلئے روایتی امریکی ہتھیار ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں جس کے باعث جوہری حملے کا امکان زیرِ بحث آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ تاہم یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی فوجی ہدف کو تباہ کرنے میں دشواری جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا جواز فراہم نہیں کرتی کہ جوہری حملے کے اثرات کسی مخصوص فوجی تنصیب تک محدود نہیں رہتے بلکہ تابکاری‘ انسانی ہلاکتوں‘ ماحولیاتی تباہی اور طویل مدتی اثرات کی صورت میں پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔ عالمی سیاست میں کسی فریق کے مفادات اس کیلئے اہم ہو سکتے ہیں مگر ان مفادات کو انسانیت کی بقا پر فوقیت نہیں دی جا سکتی۔ ایران کے خلاف کسی بڑے فوجی آپریشن کے نتائج بھی انتہائی سنگین ہوں گے۔

خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم راستے ہیں اور یہاں پہلے ہی امریکہ اور اسرائیل کی بھڑکائی ہوئی آگ پوری دنیا کی معیشت کیلئے ڈرائونا خواب ثابت ہو رہی ہے۔ اس خطے میں کشیدگی میں اضافہ تیل‘ گیس اور دیگر اشیا کی تجارت کو مزید متاثر کر ے گا‘ جس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں قیمتیں مزید بڑھیں گی اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہو گا۔ یہ صورتحال صرف ترقی پذیر ممالک کیلئے تشویش کا باعث نہیں ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس وقت بحرانی صورت پیدا ہو چکی ہے۔ یورپ کے سات آٹھ ممالک میں عوامی مظاہرے اور امریکہ کے آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو جن شدید چیلنجز کا سامنا ہے اس کی ایک بڑی اور بنیادی وجہ یہی مشرق وسطیٰ کا بحران ہے جس نے توانائی کی قیمتوں کو شدید متاثر کیا ہے اور مہنگائی کا مسئلہ شدت اختیار کر چکا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان جیسے ممالک‘ جو توانائی کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں‘ اس بحران سے کم متاثر نہیں۔ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ نقل وحمل‘ صنعت‘ زراعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔ جہاں تک جوہری ہتھیاروں کی بات ہے تو فی زمانہ ان کے استعمال کے بارے سوچنا بھی پاگل پن ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ امریکہ ایسی حرکت کرتا ہے تو یہ دیگر جوہری طاقتوں کیلئے ایسی کارروائی کی نظیر ثابت ہو گی۔ یہی وہ خطرہ ہے جسے دنیا کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اس صورتحال میں اقوام متحدہ‘ عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی سفارتکاری سے وابستہ اداروں اور شخصیات کو بروئے کار آنے کی ضرورت ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات‘ قابلِ تصدیق معاہدوں اور باہمی ضمانتوں کے ذریعے تلاش کرنے کی جو کوشش پاکستان‘ قطر اور دیگر ممالک کی جانب سے جاری ہے اس کا کامیابی سے ہمکنار ہونا ہی عالمی امن کی ضمانت ہے۔ اس کشیدگی کے خاتمے‘ علاقائی امن کی حمایت اور تنازعات کے مذاکراتی حل کیلئے عالمی سطح پر آواز بلند کی جانی چاہیے۔ دنیا کسی تباہ کن عالمی جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی؛ چنانچہ عالمی امن کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے عناصر کو خبردار کرنے کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی تباہی کے شعلوں کو بھڑکانے کے بجائے انہیں بجھانے کی کوشش کی جائے کیونکہ تصادم کی صورت میں تباہی کی قیمت چند حکومتیں نہیں پوری انسانیت ادا کرے گی۔