کراچی میں مداخلت کریں , الطاف حسین کا نیٹو اور بھارت کو پیغام , ملک کیخلاف اعلان جنگ پر جلد قانونی کارروائی کرینگے : وزیر داخلہ

کراچی میں مداخلت کریں , الطاف حسین کا نیٹو اور بھارت کو پیغام , ملک کیخلاف اعلان جنگ پر جلد قانونی کارروائی کرینگے : وزیر داخلہ

متحدہ قا ئد نے حدیں پار کر لیں،انہیں اصل خطر ہ منی لا نڈرنگ ‘ عمران فاروق کیس سے ہے غصہ پا کستان پر نکا ل رہے ہیں ، لندن پو لیس کو شواہد دینگے ، برطانیہ میں ریفرنس دائر کر ینگے ‘دشمن ملک کو مداخلت کی دعو ت نا قا بل برداشت

الطا ف پر ملین پا ؤنڈ کی سر مایہ کار ی کر نیوالے بھی بے چین ،ان کی تقر یر پر پابندی کا سو چ رہے ہیں :نثار ،گر یٹر بلو چستان ، گر یٹر پختو نستان اور گر یٹر پنجا ب بنے گا ،جنکا ہیڈ کوارٹر زکر اچی ہو گا :متحدہ کے قا ئد کی انتہائی متنازعہ تقریر اسلام آباد (سیاسی رپورٹر) حکومت پاکستان نے الطاف حسین کی قومی اداروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا معاملہ برطانیہ سے اٹھانے اور ان کیخلاف قانونی چارہ جوئی کا اعلان کردیا ہے ، وزیرداخلہ نے کہا ہے کہ برطانوی شہری الطاف نے تمام حدیں پار کردیں، فوج پر ایسے الزامات لگائے کہ دوہرائے نہیں جاسکتے ، بھارت اقوام متحدہ اور نیٹو کو پاکستان میں مداخلت کی کھلی دعوت دی اسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا، کراچی آپریشن جاری رہے گا،الطاف کیخلاف منی لانڈرنگ اور عمران فاروق قتل کیس میں برطانیہ سے مکمل تعاون ومدد کرینگے ، نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد وزارت داخلہ نہیں پوری حکومت، سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے ، اب ان کی نفرت انگیز تقاریر کا معاملہ قانونی طور پر برطانوی حکومت کے سامنے اٹھائیں گے ۔ اس حوالے سے قانونی مسودے کی تیاری پر کام شروع کر دیا گیا ہے جو آئندہ چند روز میں برطانوی حکومت کو پیش کر دیا جائے گا، برطانیہ میں مقدمات کے بعد تحقیقات سے الطاف کا گھیرا تنگ ہورہا ہے جس کا غصہ پاکستان پر نکالا جارہا ہے ، ایم کیوایم محب وطن سیاسی جماعت ہے کارکن علیحدگی کا فیصلہ خود کرینگے ، اصل بے چینی انکوہورہی ہے جنہوں نے الطاف حسین پر ملین پائونڈز کی سرمایہ کاری کی ہے ۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان نے پنجاب ہائوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لندن میں بیٹھے ایک لیڈر نے ریاست پاکستان، فوج، اداروں کو تضحیک کا نشانہ بنایا ہے جو قابل مذمت ہے ،کراچی آپریشن 29 اگست 2013ء کو شروع ہوا،دو دن قبل 27 اگست کو متحدہ کے رہنما فاروق ستار نے پریس کانفرنس کی اور کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا،وزیراعظم کی مشاورت سے 29 اگست کو بطور وزیرداخلہ کراچی آپریشن کا اعلان کیا اورکہا کہ آپریشن کولیڈ وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کرینگے کیونکہ وہی کپتان ہیں،فوج کو براہ راست ملوث کرنے سے گریز کیا،کراچی میں امن لانے کیلئے آپریشن کا فیصلہ کیا اس وقت موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی میجر جنرل رضوان اختر ڈی جی رینجرز سندھ تھے ،انہیں تبدیل کیا جارہا تھا میں نے آرمی چیف جنرل کیانی سے درخواست کرکے میجر جنرل رضوان اختر کی کراچی میں تعیناتی 3 ماہ کی توسیع کرائی پھر جنرل راحیل شریف سے درخواست کرکے ڈی جی رینجرز کی مزید 3ماہ تعیناتی میں توسیع کرائی،یہ سب کچھ پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کو اعتمادمیں لیکر کیاگیا، ایم کیوایم کے جب پر جلنے لگے تو آپریشن کی مخالفت شروع کردی،آج کراچی کے حالات بہت بہتر ہیں جو ڈیڑھ سال قبل ناممکن لگ رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس دوران صرف ایم کیوایم کے کارکن گرفتار نہیں ہوئے بلکہ حکمران جماعت پی پی کے لوگ گرفتار ہوئے ،اسکے علاوہ اے این پی،سنی تحریک، شباب ملی کے کارکنوں کو گرفتار کیاگیا، وزیراعلیٰ سندھ،سراج الحق نے کبھی اپنے کارکنوں کی گرفتاری کی شکایت نہیں کی ایم کیوایم کے تحفظات ہمیشہ دور کئے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا کہ ایسا تاثر جائے کہ کسی خاص جماعت کوٹارگٹ کیا جارہا ہے وفاقی حکومت کی مکمل ہدایات پر رینجرز ایکشن کررہی ہے ،گورنر سمیت کئی دیگر رہنمائوں نے اگرکوئی نشاندہی کی تحقیق میں کوئی بے گناہ پایا گیاتو اسے چھوڑ دیا گیا، آپریشن صرف اور صرف جرائم پیشہ افراد کیخلاف ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ کچھ عرصہ سے لندن سے ایسی تقاریر کی گئیں جوکسی صورت قابل برداشت نہیں ہیں، الطاف حسین نے قومی اداروں کے سربراہوں کو کتا اور بے غیرت تک کہا،فوج کیخلاف طنزیہ نظمیں پڑھی گئیں جو دوہرائی نہیں جاسکتیں،پاکستانی فوج نے خانہ کعبہ پر کب حملہ کیا، اللہ کے گھر کو گولیوں کا نشانہ کس نے بنایا،صرف ایم کیوایم کے قائد ہی جانتے ہیں کیونکہ جب خانہ کعبہ کا مسئلہ تھا تو اس وقت پاکستان وجود میں ہی نہیں آیا تھا۔ اقوام متحدہ،نیٹو اور دیگر عالمی اداروں سے باقاعدہ مطالبہ کیاکہ وہ پاکستان پر قبضہ کرلیں،بھارت کو پاکستان میں مداخلت کی کھلے عام دعوت دی گئی کہاگیا کہ بھارت کی کمزوری ہے کہ پاکستان میں مہاجروں کا خون بہایا جارہا ہے یہ کونسی پاکستانیت ہے ،حب الوطنی کہاں گئی، یہ زبان تو پاکستان کے دشمن استعمال کرتے ہیں، اردو بولنے والوں اور ایم کیوایم کی یہ زبان نہیں ہوسکتی الطاف پاکستان دشمنوں کی طرح زبان استعمال کررہے ہیں ایم کیوایم محب وطن جماعت ہے میرا نہیں خیال کہ الطاف پاکستان آئینگے پاکستان میں درج مقدمات کا ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اصل مسئلہ عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کا ہے جن کے تحت الطاف کے گرد گھیرا تنگ ہورہا ہے یہ مقدمات پاکستانی فوج،رینجرز نے نہیں درج کرائے بلکہ برطانوی پولیس نے درج کرائے ہیں،پاکستان ایک مہذب اور ذمہ دار ملک ہے ،عمران فاروق کو لندن کی گلی میں قتل کیاگیا،اس ظالمانہ قتل کیخلاف برطانیہ سے مکمل تعاون ومددکرینگے ، الطاف حسین کا مطالبہ تھاکہ عمران فاروق کے قاتلوں کو کٹہرے میں لایا جائے ان کے مطالبہ پر تحقیقات ہورہی ہیں تو پھر اعتراض کیسا؟ کراچی میں جولائی کے ماہ میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے ٹارگٹ کلنگ میں 50 فیصد، بھتہ خوری میں 87فیصد، اغوا برائے تاوان میں تقریباً 100 فیصد کمی آئی ہے جولائی میں صرف ایک بینک ڈکیتی ہوئی،پوری دنیا کراچی آپریشن کی معترف ہے اگرکسی کو اعتراض ہے تووہ صرف الطاف حسین ہیں،ایم کیوایم قابل احترام جماعت ہے صرف جرائم پیشہ کارکنوں کیخلاف ایکشن کیا جارہا ہے متحدہ کے سواکسی جماعت نے کراچی آپریشن پر احتجاج نہیں کیاکراچی میں امن ہوگا توپورے ملک کوبلکہ زیادہ فائدہ متحدہ کوہوگا،کراچی آپریشن اسی تیزی سے جاری رہے گا بہت پیشرفت ہوئی ہے رینجرز کیساتھ بدتمیزی کی جارہی ہے اسکے باوجود انٹیلی جنس ادارے نمایاں کردار ادا کررہے ہیں پولیس نے آپریشن کی مکمل حمایت کی ہے ،مجھے یاد نہیں کہ وزیراعلیٰ سندھ،کراچی انتظامیہ نے کبھی عدم تعاون کیا ہو،پیپلزپارٹی کیساتھ ملکر یہ آپریشن کیا جارہا ہے کوئی رکاوٹ نہیں آنے دینگے ،وفاق اور سندھ میں مکمل انڈرسٹینڈنگ ہے کراچی کو میٹروپولیٹن شہر صحیح معنوں میں بنائینگے ، الطاف کیخلاف مقدمات میں برطانیہ سے تعاون جاری رکھا جائیگا، تیسری اور آخری بات الطاف حسین کی اس قسم کی تقاریر،پاک فوج پر الزامات برداشت نہیں کئے جائینگے یہ جنگ ریاست پاکستان کیخلاف ہے ایم کیوایم کے محب وطن کارکن ایسا سوچ بھی نہیں سکتے جوکچھ الطاف حسین کررہے ہیں الطاف کی تقاریر کی ویڈیوز برطانیہ کو بھجوا دی ہیں مزید دستاویزات برطانیہ کو دی جائینگی قانونی طور پر برطانوی پولیس کو دستاویزات بھجوائیں گے کہا جائے گا کہ الطاف حسین پاکستان کی ریاست کیخلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے بھارت کو مداخلت کی دعوت دی جارہی ہے اس قسم کے سنگین اقدامات ہیں کہ پاکستان برداشت نہیں کرسکتا، برطانیہ کو الطاف کیخلاف لیگل ریفرنس جلد بھجوایا جائے گا، مہاجروں نے حضور اکرمؐ کی پیروی کرتے ہوئے پاکستان ہجرت کی بہت قابل احترام ہیں سکیورٹی ادارے پاکستان کی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں انکی عزت وتحفظ قومی ذمہ داری ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی طرف سے لندن میں مظاہرے مناسب نہیں شاہ محمودقریشی کو درخواست کی تھی سیاسی جنگ پاکستان میں لڑی جائے ،عدالتوں میں معاملات چل رہے ہیں یہ جنگ لندن کی گلیوں بازاروں میں نہ لے جائیں کیونکہ اس طرح پاکستان کی تضحیک ہوگی،شاہ محمود قریشی نے میری تائید کی،الطاف کیخلاف مقدمات ٹونٹی ٹونٹی نہیں کہ جلدنتائج سامنے آجائیں لمبی جنگ ہے ،میڈیا، قوم انتظار کرے ،متحدہ کے وفدنے تین دن قبل میرے ساتھ ملاقات کی اور تحفظات کا اظہار کیا میں نے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی پھراچانک الطاف حسین کی تقریرسامنے آگئی، انہوں نے کہا کہ نفرت انگیز تقریر پر کس قسم کا کیس بنے گا، ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے ۔ الطاف حسین کی لائیو تقریر بند کر دی ہے ۔الطاف کی تقاریر کو روکنے کیلئے قانونی مشورہ کیاجارہا ہے مکمل طورپر تو شایدتقریر بند نہ کی جاسکے ۔ جنرل ظہیرالاسلام کے دھرنے میں ملوث ہونے بارے سوال کے جواب میں وزیرداخلہ نے کہاکہ بدقسمتی سے جو کچھ اصل میں ہوتا ہے وہ قوم کو نہیں بتایا جاتا اور جونہیں ہوتا وہ قوم کو بتایا جاتا ہے پاکستان کو پہاڑ جیسے مسائل کا سامنا ہے ،میں ذاتی طورپر اس پنڈورابکس کو کھولنے کے حق میں نہیں ہوں، دھرنے کی حقیقت سے جتنا واقف ہوں ، کتاب لکھ سکتا ہوں ،لیکن ہماری توجہ پاکستان کے مسائل پر ہے ، ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اندرونی سکیورٹی بہتر ہوئی ہے کہ کئی کئی ماہ دھماکے نہیں ہوتے ،یہ ہے وزارت داخلہ کی کارکردگی،کوئٹہ کراچی پشاور میں پانچ، سات دھماکے ہوتے تھے اب صورتحال بالکل مختلف ہے ۔ کراچی (سٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے گزشتہ رات اپنی انتہا ئی متنازعہ تقر یر میں بھارت اور نیٹو کو کراچی میں مداخلت کا پیغام دیدیا ایم کیوایم امریکہ کے تین روزہ سالانہ کنونشن کے موقع پر اجتماع سے ٹیلی فون پرخطاب کرتے ہوئے انھو ں نے ملکی وحدت پر حملہ کر دیا ان کا کہنا تھا کہ دنیامیں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں، گریٹربلوچستان بنے گا،گریٹرپختونستان بھی بنے گا اور گریٹرپنجاب بھی ہوگاجس کا ہیڈکوارٹر کراچی ہوگا انہوں نے ایم کیوایم امریکہ کے کارکنوں سے کہاکہ آپ اقوام متحدہ جائیں اورنیٹوکے ہیڈکوارٹر جائیں ، وہاں جاکرانہیں مہاجروں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے آگاہ کریں اوران سے کہیں کہ وہ کراچی میں اقوام متحدہ یانیٹوکی فوج بھیجیں تاکہ وہ وہاں معلوم کریں کہ کس نے قتل عام کیااورکون کون اس کاذمہ دارتھا۔متحدہ کے قا ئد نے ملکی سلامتی کے اداروں پر بھی ہرزہ سرائی کر تے ہو ئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج کو سلیوٹ کرکے غلطی کی ہے ۔ اس غلطی پر اللہ مجھے معاف فرمائے ۔ الطاف حسین نے کہا کہ بھارت ڈرپوک ہے ۔ اس میں ذرا بھی غیرت ہوتی تو پاکستان میں مہاجروں کا خون نہ ہونے دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ لندن میں بینک اکاؤنٹس بندہیں اورتحریک مالی دشواریوں کاشکارہے لہٰذا کارکنان حسب توفیق چندہ بھیجیں دریں اثناء اتوار کو ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر رابطہ کمیٹی اور مختلف شعبوں کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے الطاف حسین نے کہا کہ ہمارے پاس ایم کیوایم کے رہنماؤں، ذمہ داروں اورکارکنوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے ثبوت و شواہد موجود ہیں۔ جب بھی غیرملکی عدالت میں مقدمہ چلایاجائے گا تو یہ تمام ثبوت و شواہد پیش کردیئے جائیں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں