قائم علی شاہ کا 3بار وزیراعلیٰ سندھ رہنے کا اعزاز

قائم علی شاہ کا 3بار وزیراعلیٰ سندھ رہنے کا اعزاز

1988 میں پہلی بار وزیر اعلیٰ سندھ بنے ، ایک بار قومی 6بار رکن صوبائی اسمبلی بن چکے

کراچی (صلاح الدین علی) سندھ کے تین بار وزیر اعلیٰ رہنے والے سید قائم علی شاہ کی عمر 83 برس ہے ۔ سید قائم علی شاہ13ستمبر1933ئکو پیدا ہوئے ۔ ان کا تعلق سندھ کے ضلع خیر پور سے ہے ، ان کا سیاسی تعلق ہمیشہ سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی سے رہا ہے ۔ 83 برس کے سید قائم علی شاہ طویل عرصے سے پیپلز پارٹی سندھ کے صدر کے عہدے پر فائز ہیں۔ سید قائم علی شاہ نے اپنے سیاسی کیریئر کی ابتدا فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریت کے نظام کے تحت ہونے والے انتخابات سے کی اور خیرپور کے ضلعی کونسل کے چیئرمین بنے ۔ ان کی پاکستان پیپلز پارٹی سے سیاسی وابستگی کا آغاز 70 کی دہائی میں ہوا ، کراچی میں قانون کی تعلیم کے وقت ان کی پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو سے شناسائی ہوئی تھی ، جو ان کے لیے عقیدت میں بدل گئی، سید قائم علی شاہ پہلی بار 1970 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور وفاقی وزیر برائے انڈسٹری اینڈ کشمیر افیئر بنے ۔ سید قائم علی شاہ 1988 میں پہلی بار سندھ کے وزیر اعلیٰ بنے اور ایک بار پھر 1990 میں سید قائم علی شاہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ 1997ء کے انتخابا ت میں شکست کے بعد سید قائم علی شاہ کو پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر بنا دیا گیا تھا۔ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں 2002ء کے انتخابات میں قائم علی شاہ ایک بار پھر رکن سندھ اسمبلی بنے ، 18 فروری 2008ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد قائم علی شاہ کو دوسری بار سندھ کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا ۔ 2013 کے انتخابات میں سید قائم علی شاہ اپنے روایتی حریف پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سید غوث علی شاہ کو شکست دے کر کا میاب ہوئے اور سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ۔ سید قائم علی شاہ مجموعی طور پر 6 بار سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوچکے ہیں ،ایک بار قومی اسمبلی کے ممبر اور ایک بارسینیٹر بنے ۔ ضلع خیر پور سے تعلق رکھنے والے سید قائم علی شاہ 1973 میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر کے عہدے پر فائز ہوئے ، جبکہ 4 سال 1977ء تک اپنی پارٹی کے سندھ میں صدر رہے ۔جس کے بعد 1987 میں ایک بار پھر سید قائم علی شاہ کو سندھ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے سندھ کی صدارت سونپ دی گئی ، جو کہ 10 سال 1997 تک رہے ۔ سال 2004ء میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی سندھ کی صدرات ان کے حوالے کردی گئی، جو کہ اب تک ان کے پاس ہی ہے ۔ وہ ڈسٹرکٹ کونسل کے چیئر مین بھی رہ چکے ہیں۔ سید قائم علی شاہ کو وزارت اعلیٰ کے دور میں مختلف جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑتا رہا، خاص طور پر ان کی حکومت پر اس وقت زیادہ تنقید ہوئی جب سندھ میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2012ء نافذ کیا گیا ، اس وقت انہیں زیادہ تنقید قوم پرست جماعتوں اور مسلم لیگ فنکشنل کی جانب سے برداشت کرنا پڑی تھی ۔ 2013 کے عام انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی نے تیسری بار سید قائم علی شاہ کو سندھ کا وزیر اعلیٰ نامزد کیا تھا، جن کو 24 جولائی 2016 کو ہٹانے کو فیصلہ کیا گیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں