نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان کااقوام متحدہ جنرل اسمبلی سےویڈیولنک خطاب
  • بریکنگ :- سعودی عرب دنیامیں امن کاداعی اورتنازعات کاپُرامن حل چاہتاہے،شاہ سلمان
  • بریکنگ :- سعودی عرب دہشت گردگروہوں کی کارروائیوں کامقابلہ کررہاہے،شاہ سلمان
  • بریکنگ :- امیدہےایران فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی حمایت سےدستبردارہوجائےگا،شاہ سلمان
  • بریکنگ :- ایران کےجوہری ہتھیاروں کےحصول کےاقدامات پرگہری تشویش ہے،شاہ سلمان
  • بریکنگ :- ایران کوجوہری ہتھیاروں سےروکنے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں،شاہ سلمان
  • بریکنگ :- میزائل اورڈرون حملوں کےپیش نظرسعودی عرب کواپنےدفاع کاحق حاصل ہے،شاہ سلمان
  • بریکنگ :- مسئلہ فلسطین کےمنصفانہ حل سےہی خطےمیں دیرپاامن قائم ہوسکتاہے،شاہ سلمان
  • بریکنگ :- شاہ سلمان کاافغانستان میں قیام امن کےلیےتمام کوششیں بروئےکارلانےپرزور
Coronavirus Updates

شہباز شریف ، حمزہ ملک سے فرار ہو سکتے ہیں ،ایف آئی اے

 شہباز شریف ، حمزہ ملک سے فرار ہو سکتے ہیں ،ایف آئی اے

دنیا اخبار

ملزم ضمانت پر رہے تو تفتیش مکمل نہیں ہوسکتی ،ضمانتیں مسترد کی جائیں ، دونوں تعاون نہیں کررہے ،جواب جمع ، ضمانتوں میں 16اگست تک توسیع

لاہور( کورٹ رپورٹر، عدالتی رپورٹر )شوگر بزنس کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی ضمانتیں مسترد کرنے کی استدعا کردی ۔ ایف آئی اے کی عدالت میں جمع کرائے گئے جواب کی کاپی لاہور نیوز نے حاصل کرلی۔ ایف آئی اے نے جواب میں کہاکہ دونوں ملزم رمضان شوگر مل کے بینی فشری ہیں جس کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی ۔ ملزموں پر 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے ۔ ریکارڈ کے مطابق رمضان شوگر ملز کے کم تنخواہ دار ملازمین کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے گئے ۔ ملزموں نے حوالہ ہنڈی کے ذریعے بڑے پیمانے پر منی لانڈرنگ کی ۔ ریکارڈ کے مطابق تین نامزد ملزم سلمان شہباز ،طاہر نقوی اور ملک مسعود برطانیہ فرار ہوچکے ہیں ۔ ایف آئی اے نے جواب میں مزید کہاکہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی بیرون ملک فرار ہوسکتے ہیں ۔مشکوک بینک اکاؤنٹس کے ذریعے 2008 سے 2018 تک لین دین ہوتا رہا ، ملزم اگر ضمانت پر رہے تو کیس کی تفتیش مکمل نہیں ہوسکتی ۔ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہے ہیں ۔ ایف آئی اے نے شہباز شریف سے متعلق تحقیقات کا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔ ایف آئی اے نے جواب میں کہاکہ شہباز شریف سے رمضان شوگر ملز کے ملازمین کے اکاؤنٹ میں 25 ارب جمع کرائے جانے سے متعلق سوال پوچھا گیا تو شہباز شریف نے جواب میں کہا کہ انکے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں۔ شہباز شریف نے جواب دیا کہ یہ وہی خود ساختہ الزامات ہیں جو نیب نے منی لانڈرنگ کیس میں لگائے ، ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے اپنے جواب میں یہ بھی کہاکہ شہباز شریف نے جواب دیا کہ وہ رمضان شوگر ملز کے کبھی ڈائریکٹر نہیں رہے ، اگر آپکو اس کے متعلق جواب چا ہئے تو اس معاملے پر اپنے وکیل سے مشاورت کے بعد جواب دوں گا،ایف آئی اے کے تفتیشی افسر نے کہاکہ شہباز شریف نے بطور وزیراعلیٰ ماڈل ٹاؤن کی رہائشگاہ کے پلاٹ اور بُلٹ پروف گاڑی کی خریداری کے سوال پر بھی وکیل سے مشاورت کرنے کا جواب دیا ۔ رمضان شوگر ملز کے ملازمین کے اکاؤنٹس میں منی لانڈرنگ کے ذریعے آنیوالی رقم سے فائدہ اٹھانے کے سوال پر بھی شہباز شریف نے کوئی جواب نہیں دیا۔ شہباز شریف نے بین الاقوامی اثاثوں، آف شور کمپنیوں کے سوال پر بھی کوئی جواب نہیں دیا، خاندان کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے شہباز شریف نے اپنے بچوں کے اثاثوں پر نظر نہ رکھنے کے سوال پر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ادھر سیشن عدالت نے ایف آئی اے کے مقدمات میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری درخواست ضما نتوں میں 16 اگست تک توسیع کردی۔ عدالت نے وکلا کو بحث کے لیے طلب کرلیا۔بینکنگ عدالت کے ڈیوٹی جج حامد حسین نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی شوگر بزنس کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمات کی درخواست ضمانتوں پر سماعت کی۔ ملزم عدالت کے روبرو پیش ہوئے ، دوران سماعت ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے تحقیقات میں ہونے والی پراگریس رپورٹ عدالت میں جمع کروائی۔شہباز شریف کے وکلا نے ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کروایا اور استدعا کی کہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے باعث کیس کی لمبی تاریخ دی جائے ۔ عدالت نے کارروائی کرتے ہوئے ملزموں کی ضمانتوں میں 16 اگست تک توسیع کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement