4سالہ حکومت :عمران کے اثاثے تقریبا ً سوا 10 کروڑ بڑھے
لاہور (دنیا انویسٹی گیشن سیل رپورٹ) تحریک انصاف کے چیئرمین سابق وزیراعظم عمران خان کے 2017 سے 2021 کے دوران اثاثہ جات میں 10 کروڑ 23 لاکھ 90 ہزار 455 روپے کا اضافہ ہوا، جبکہ انہوں نے اس چار سالہ عرصے کے دوران ایک کروڑ 14 لاکھ 62 ہزار 874 روپے ٹیکس جمع کرایا۔
اسی عرصہ میں انہوں نے 6 کروڑ 18 لاکھ 84 ہزار 926 روپے ذاتی اخراجات کی مد میں خرچ کئے ۔ عمران خان کی جانب سے ایف بی آر میں ٹیکس سال 2017 سے 2021 کے دوران جمع انکم ٹیکس ریٹرنز کی تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم کے 2017 میں کل اثاثہ جات 3 کروڑ 86 لاکھ 94 ہزار 493 تھے ، جبکہ اس سال 47 لاکھ 76 ہزار 611 روپے کا اضافہ ہوا، 2017 میں عمران کے بینک میں 2 کروڑ 69 لاکھ 55 ہزار 412 روپے جبکہ 24 لاکھ 56 ہزار 414 روپے نقد موجود تھے ۔ یوں 2 کروڑ 94 لاکھ 11 ہزار 826 روپے کے اثاثے تھے ۔ اسی طرح فارن کرنسی اکاؤنٹ میں 3 لاکھ 81 ہزار 230 امریکی ڈالر اور 7 ہزار 68 برطانوی پاؤنڈ تھے جبکہ عمران خان نے اس سال 70 لاکھ 79 ہزار 364 روپے کے ذاتی اخراجات کئے ۔سال 2018 کی انکم ٹیکس ریٹرنز کے مطابق سابق وزیراعظم کے کل اثاثوں میں ایک کروڑ 92 لاکھ 54 ہزار 995 روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا جو 2017 کی نسبت 50 فیصد زیادہ تھا۔ اس سال عمران خان کی جانب سے 2 لاکھ 82 ہزار 449 روپے کا ٹیکس جمع کرایا گیا، جبکہ عمران خان نے اس سال 5 کروڑ 79 لاکھ 49 ہزار 488 روپے کے اثاثے ظاہر کئے ۔ سال 2018 میں ان کے اثاثوں میں 2 کروڑ 38 لاکھ 82 ہزار 990 روپے کا اضافہ ہوا ، جبکہ اس سال عمران خان کی جانب سے 46 لاکھ 27 ہزار 995 روپے کے ذاتی اخراجات کئے گئے ۔ اسی طرح ٹیکس سال 2018 میں عمران خان کی بینکوں میں موجود رقم 96 لاکھ 10 ہزار 907 روپے تھی، جبکہ ان کے پاس موجود نقد رقم 2 کروڑ 40 لاکھ 24 ہزار 247 روپے تھی۔ یوں خان کے پاس 3 کروڑ 36 لاکھ 35 ہزار 154 روپے موجود تھے ۔ اسی سال عمران کے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں بھی 3 لاکھ 31 ہزار 230 امریکی ڈالر اور 7 ہزار 67 برطانوی پاؤنڈ موجود تھے ۔ ٹیکس سال 2019 میں عمران کے جانب سے ظاہر اثاثے 2 کروڑ 27 لاکھ 42 ہزار 173 روپے اضافے کے ساتھ 8 کروڑ 6 لاکھ 91 ہزار 661 روپے تک پہنچ گئے ۔
اس سال ان کے اثاثوں میں 39 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ سال 2019 میں عمران خان کے پاس 4 کروڑ 56 لاکھ 57 ہزار 760 روپے کے اثاثوں کا اضافہ ہوا، جبکہ ان کی جانب سے اس سال 2 کروڑ 29 لاکھ 15 ہزار 587 روپے کے ذاتی اخراجات کیے گئے ۔ عمران خان کے پاس بینکوں اور نقد ی کی صورت میں 7 کروڑ 66 لاکھ 35 ہزار 660 روپے تھے ۔ اسی طرح فارن کرنسی اکاؤنٹس میں 3 لاکھ 31 ہزار 230 ڈالر اور 518 برطانوی پاؤنڈ موجود تھے ۔ سال 2019 کے انکم ٹیکس گوشواروں کے مطابق عمران خان نے اس سال 98 لاکھ 54 ہزار 959 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ٹیکس سال 2020 میں عمران خان نے 14 کروڑ 21 لاکھ 19 ہزار 167 اثاثوں کی ملکیت ظاہر کی، جبکہ اس ملکیت پر ان کی جانب سے 8 لاکھ 60 ہزار 526 روپے کا ٹیکس ادا کیا گیا۔ یوں 2019 کی نسبت ان کے اثاثوں میں 6 کروڑ 14 لاکھ 27 ہزار 506 روپے کا اضافہ دیکھا گیا۔ اس سال سابق وزیراعظم کے 8 کروڑ 5 لاکھ 90 ہزار 663 روپے کے نئے اثاثے آئے جبکہ ذاتی اخراجات ایک کروڑ 91 لاکھ 63 ہزار 157 روپے تھے ۔ عمران کے پاس بینکوں اور نقد ی کی صورت میں 6 کروڑ 3 لاکھ 12 ہزار 688 روپے موجود تھے ۔ فارن کرنسی اکاؤنٹس میں 3 لاکھ 29 ہزار 196 امریکی ڈالر اور 518 برطانوی پاؤنڈ موجود تھے ۔ ٹیکس سال 2020 کے انکم ٹیکس گوشواروں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے 8 لاکھ 60 ہزار 526 روپے ٹیکس جمع کرایا۔ 2021 کے جمع کرائے گئے گوشواروں کے مطابق عمران خان کے کل اثاثے 10 لاکھ 34 ہزار 219 روپے کمی کے ساتھ 14 کروڑ 10 لاکھ 84 ہزار 948 روپے تھے ، یوں سابق وزیراعظم کے کل اثاثوں میں 0.79 فیصد کمی دیکھی گئی۔ گزشتہ ٹیکس سال کے دوران انہوں نے 80 لاکھ 98 ہزار 823 روپے کے ذاتی اخراجات کئے ۔ بینکوں اور نقد ی کی صورت میں 4 کروڑ 95 لاکھ 94 ہزار 219 روپے موجود تھے ۔ جبکہ فارن اکاؤنٹس میں بھی3 لاکھ 24 ہزار 621 امریکی ڈالر اور 518 برطانوی پاؤنڈ موجود تھے ۔ جبکہ گزشتہ ٹیکس سال میں سابق وزیراعظم کی جانب سے 3 لاکھ 61 ہزار 177 روپے ٹیکس جمع کرایا گیا۔