بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے چیئرمین پی ٹی آئی کا چیف جسٹس کو خط

 بنیادی حقوق کا تحفظ کیا جائے   چیئرمین پی ٹی آئی کا چیف جسٹس کو خط

اسلام آباد، لاہور (سپیشل رپورٹر، اپنے نامہ نگار سے )چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسٰی کے نام خط لکھا گیا ہے جس میں انہو ں نے پی ٹی آئی کی سیاسی تشہیر،اغوا اور گمشدگیوں کیخلاف نوٹس لینے کی اپیل کی ہے ، خط میں چیف جسٹس سے وفاق وصوبائی حکومتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ دینے کیلئے ہدایات جاری کرنے کی بھی استدعا کی گئی ہے ۔

خط میں چیئر مین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا ہے ،خط میں انہو ں نے لکھا کہ تحریک انصاف سے وابستہ افراد کو انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور تحریک انصاف سے وابستہ رہنماؤں کو جبری گمشدہ کیا جارہا ، اب تک بڑی تعداد میں لوگوں کی سیاسی وفاداریاں زبردستی تبدیل کروائی جارہی ہیں،عدالتو ں میں ضمانتیں ہونے کے باوجود سیاستدانوں کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں جن کو روکا جائے ،چیئرمین پی ٹی آئی نے چیف جسٹس سے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں پر کمیشن قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ،خط میں کہا گیا کہ وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت الیکشن کمیشن کو حکم دیا جائے کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں کو الیکشن مہم کی اجازت دیں اور پیمرا کو حکم دیا جائے کہ دیگر جماعتوں کی طرح پی ٹی آئی کو بھی میڈیا کوریج فراہم کی جائے ، اس خط کو آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت پٹیشن کے طور پر لیا جائے ۔ سینئر وکیل اعتزاز احسن نے سیاستدانوں کی جبری گمشدگیوں سے متعلق پٹیشن بھی دائر کی ہے ۔ علاوہ ازیں چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں درخواست ضمانت بعد از گرفتاری دائر کردی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے وکیل لطیف کھوسہ، انتظار پنجوتھا، علی اعجاز کے ذریعے درخواست احتساب عدالت اسلام آباد میں دائر کی گئی ہے ، جس پر جج محمد بشیر نے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں۔ درخواست ضمانت میں چیئرمین نیب اور ڈائریکٹر جنرل نیب کو فریق بنایا گیا ہے ۔ عدالت نے سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کردی۔لاہورہائیکورٹ میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نو مئی کے مقدمات میں عبوری ضمانتیں خارج کرنے کے اقدام کے خلاف متفرق درخواست پر سماعت ہوئی،عدالت نے ضمانتوں پر جلد سماعت کی متفرق درخواست منظور کرلی ۔

جسٹس عالیہ نیلم کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے چیئر مین پی ٹی آئی کی متفرق درخواست پر سماعت کی ۔متفرق درخواست میں موقف اختیار کیاگیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی نو مئی کے مقدمات میں عبوری ضمانتیں ٹرائل کورٹ نے عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کیں حالانکہ چیئرمین پی ٹی آئی ہر سماعت پر عدالت میں پیش ہوتے رہے وکیل نے بتایاکہ ٹرائل کورٹ کے جج کو تمام حقائق سے آگاہ بھی کیا گیا لیکن اس کے باجود عبوری ضمانتیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردی گئیں عدالت نے متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے رجسٹرڈ آفَس کو درخواستیں مقرر کرنے کی ہدایت جاری کردیں ۔ توہین الیکشن کمیشن اورتوہین چیف الیکشن کمشنر کیسز کی سماعت ہوئی، چیئرمین تحریک انصاف پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی ،پی ٹی آئی کے رہنما اسد عمر ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے ، چیئرمین پی ٹی آئی اورفواد چودھری کو پیش نہ کیا جاسکا۔ وکیل چیئرمین پی ٹی آئی شعیب شاہین نے وزارت داخلہ کی رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کی اور کہاکہ کیس کے بارے میں تاثراچھا نہیں جائے گا ، جس پر کمیشن کے سربراہ نثاردرانی نے رپورٹ کی کاپی فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ تاثرکی باتوں کوچھوڑدیں ہم قانون کے مطابق کام کریں گے ۔ آپ کیس کوآگے بڑھانا چاہتے ہیں اورتعاون بھی نہیں کرتے ۔

توہین الیکشن کمیشن کیس میں وزارت داخلہ نے چیئرمین پی ٹی آئی کو الیکشن کمیشن میں پیش نہ کرنے سے متعلق رپورٹ جمع کروادی۔الیکشن کمیشن نے تمام کیسز کی سماعت 6 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے ۔سپریم کورٹ میں سائفر کیس میں سابق وزیر اعظم کی جانب سے اخراج مقدمہ کی ترمیمی درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں چیئرمین پی ٹی آئی کیخلاف سائفر ٹرائل غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔ چیئر مین پی ٹی آئی پر عائد فرد جرم بھی کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے ۔چیئرمین پی ٹی آئی نے وکیل حامد خان کے ذریعے درخواست دائر کی ہے جس میں مو قف اپنا یا گیا کہ درخواست میں ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کو بنیاد بنایا گیا ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے توشہ خانہ فوجداری کیس میں سزاکے خلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی اپیل اور فیصلہ معطل کرنے کی متفرق درخواست میں وکیل الیکشن کمیشن سے عدالتی نظیریں طلب کرلیں۔

لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہاکہ چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف فیصلہ بھی معطل کیا جائے ، چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ آپ آرڈر میں ترمیم کروانا چاہتے ہیں؟،جس پر وکیل نے کہاکہ جی میں آرڈر میں ترمیم بھی چاہتا ہوں،پانچ اگست کو ٹرائل کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں سزا سنائی، الیکشن کمیشن کو اتنی جلدی تھی کہ آٹھ اگست کو نااہلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا،سردار لطیف کھوسہ نے نااہلی سے متعلق الیکشن کمیشن کا آرڈر پڑھااور کہاکہ میں کیوں کہہ رہا ہوں کہ فیصلے کو معطل کیا جائے ،آٹھ فروری کو قومی انتخابات ہونے جا رہے ہیں،مجھے کہا گیا ہے کہ 20 روز میں انٹرا پارٹی الیکشن کروائیں،چیئرمین پی ٹی آئی کے بغیر پی ٹی آئی کچھ نہیں، فیصلہ معطل نہ ہوا تو چیئرمین پی ٹی آئی کے بنیادی حقوق متاثر ہوں گے ،انتخابات کے عمل پر ہونیوالے اثرات کا ریاست پر بھی اثر ہوسکتا ہے ، اس سزا کو معطل کریں ۔الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے فیصلہ معطل کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ ایک درخواست میں پہلے فیصلہ ہو چکا اسی میں یہ قابل سماعت نہیں،انہوں نے ان عدالتی نظیروں کے حوالے اس وقت نہیں دیئے جب درخواست پر فیصلہ ہوا،سزا کی معطلی اور خاتمے کے لیے مختلف گراؤنڈز ہوتے ہیں،وکیل الیکشن کمیشن امجد پرویز نے دلائل کے لیے دو ہفتوں کی استدعاکی،عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔

۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں