ہمیں بہت سے چیلنجزدر پیش،رویوں کو بدلنا ہوگا:نگران وزیراعظم

ہمیں بہت سے چیلنجزدر پیش،رویوں کو بدلنا ہوگا:نگران وزیراعظم

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈ یسک، اے پی پی ) نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ ملک میں امن کیلئے سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کرقانون سازی کریں،ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ،معاشرے میں رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا۔

 انہوں نے اسلام آباد میں پولیس  کے سابق انسپکٹرجنرلز کی 7ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ملک میں امن کیلئے بہت قربانیاں دی ہیں ۔ ہم پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مقروض ہیں، دہشتگردوں کیخلاف جنگ میں90ہزارافراد شہید ہوئے ، ملازمت کی نوعیت جوبھی ہوہمیں فرض شناسی سے کام کرناچا ہئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں بہت سے چیلنجز درپیش ہیں ۔ آئین کے تحت کو ئی فرد یا گروہ پرتشددکارروائیوں میں ملوث نہیں ہوسکتا ۔ نگران وزیر اعظم نے ملک میں امن و امان برقرار رکھنے میں پولیس فورس کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا فورس کے امیج کو بہتر بنانے کے لئے رویے میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے ۔ کانفرنس کا اہتمام سابق انسپکٹرز جنرل آف پولیس (اے ایف آئی جی پی)کی ایسوسی ایشن نے کیا تھا۔وزیر اعظم نے ادارہ جاتی نظم و نسق برقرار رکھنے پر پولیس فورس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مقدس فریضہ ہے اور کوئی بھی معاشرہ افراتفری کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ انارکی ناقابل قبول ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس فورس ملک کو اس انارکی سے بچانے کے لئے محافظ ہے اور معاشرے کی حفاظت کے لئے سپاہی سے لے کر افسر تک فرنٹ لائن فورس کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ گہری خود شناسی کی ضرورت ہے کہ کس طرح پولیس کی کارکردگی، اور امیج کو مزید بہتر بنایا جائے ، تبدیلیاں رویہ میں تبدیلی کے ساتھ آ سکتی ہیں نہ کہ محض یونیفارم کو تبدیل کرنے سے تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ قوم پر فورس کا بہت قرض ہے اور خاص طور پر انہوں نے دیگر صوبوں کے علاوہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پولیس کی قربانیوں کا ذکر کیا۔ شہید کمانڈنٹ ایف سی اور آئی جی پی کے پی صفوت غیور کی قربانی کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے ملک میں صفوت جیسی نامور شخصیت شاید ہی دیکھی ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نرسنگ اور پولیس کے شعبوں کو وسائل فراہم کرکے اور ان میں اعتماد پیدا کرکے انہیں دوبارہ برانڈ کرنے کی ضرورت ہے ،کسی بھی قسم کا کام کرنے کے لئے خود اعتمادی اہم ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس فورس معاشرے کو برائیوں سے پاک کرتی ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے پولیس فورس کو مسائل کا سامنا ہے ۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے دو خاندانوں کو درپیش مسائل بیان کئے جنہوں نے ان سے رابطہ کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ ان کے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا گیا جس کے وہ مستحق تھے اور سوات میں شہید ہونے والی ایک پولیس اہلکار شبانہ کا بھی حوالہ دیا۔

نگران وزیراعظم نے مقامی چیلنجز کو سمجھنے اور موثر قانونی ڈھانچہ پر گفتگو کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا ۔وزیراعظم نے پولیس فورس کے اندر ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے اور پولیس فورس کے لیے فلاحی پروگراموں میں مزید اضافہ کرنے کی تجویز بھی دی۔ دریں اثنا انسانی حقوق کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑنے کہا کہ حکومت پاکستان ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی، اس موقع پرپاکستان بھارت کے غیرقانونی زیرقبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خاتمے کے اپنے مطالبے اور بھارت کے ظلم، قبضے اور جبر کے خلاف کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے ۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہاکہ اس دن کے موقع پر پاکستان عالمی برادری کے ہمراہ انسانی حقوق کے عالمی منشور کو اپنانے کی 75 ویں سالگرہ میں شامل ہے ۔ حکومت ملکی اور بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی ۔ خواتین، بچوں، اقلیتوں، معذور افراد، بزرگ شہریوں اور خواجہ سرائوں سمیت کمزور آبادی کے حقوق کے تحفظ کے لئے خصوصی قوانین بنائے گئے ہیں ۔پاکستان عالمی برادری پرزوردیتاہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت سمیت بنیادی حقوق کی فراہمی کیلئے بھارت پردباؤ ڈالنے میں اپنا کرداراداکرے ۔ہم اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فلسطین پر اپنا وحشیانہ قبضہ ختم کرے اور فلسطینی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق فراہم کرے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں